لکھنؤ (ایجنسی)
اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے اتوار کو یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساڑھے چار سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن پوری ریاست میں کہیں بھی کوئی کچن نہیں بن پایا، تعلیم تک بربادکردی۔ روزگار کے نام پر کچھ نہیں کیا گیا ۔ ان کے پاس دکھانے کے لیے فہرست اور اعدادوشمار بھی نہیں ہیں ۔
نام لیے بغیر اکھلیش یادو نے لکھیم پور کھیری کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ان کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو آپ ٹائروں سے کچلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایس پی کا منشور تیار کیا جائے گا تو تمام ملازمین کے مسائل کو کیسے حل کیا جائے اس کا خیال رکھا جائے گا۔ اگر وقتاً فوقتاً کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ملازمین بھی اسے درست کر لیں گے۔ اکھلیش نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی مہنگائی روکنے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئی تھی ، لیکن اب صبح کی چائے سے ہر چیز اور بھی مہنگی ہوگئی ہے۔ آج تمام غریب مزدوربھرپیٹ کھانے کے لیے بھٹک رہے ہیں ۔
دریں اثناء اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ریاست ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے کے بجائے پچھڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا پورا میعاد ناکامیوں کا ہے۔ اس نے کوئی کام مفاد عامہ میں نہیں کیا ہے۔ ریاست کی ترقی کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ نظم ونسق کی حالت کافی خستہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کو دو ہی کام آتے ہیں۔’جیبھ (زبان) چلانا اور جیپ چڑھانا‘ لوگوں کو کچلنا اور ان کی آواز کو دبانا ہی ان کا ایجنڈا ہے۔
اکھلیش یادو نے لکھنؤ کے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا آڈیٹوریم میں بڑی تعداد میں یکجا ہوئے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی عجیب پارٹی ہے جو بغیر کچھ کئے ہی تال ٹھونک رہی ہے۔ بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت نے سماج کے ہر طبقے کو پریشان کیا ہے۔ خود تو کچھ کیا نہیں سماج وادی پارٹی حکومت کے کاموں کو ہی اپنا بتا کر اشتہارات میں اسے شائع کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قومی سیاست کا سمت طے ہوگی۔ جمہوریت کے لئے بھی یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ بی جے پی کے ممکنہ سازشوں سے ہمیں محتاط رہنا ہے۔ چونکہ بی جے پی بہت شاطر ہے اس لئے اس بار کوئی غلطی نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سماجو ادی پارٹی کارکنوں، لیڈروں کو بوتھ سطح تک پارٹی کی مضبوطی کے لئے لگنا ہوگا۔ سماجوادی پارٹی کا کام کرنے میں کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ ریاست کے حالات بگڑے ہوئے ہیں۔ سماجوادی حکومت بننے پر ہی لوگوں کی پریشانیاں دور ہوں گی۔ کسانوں، نوجوانوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔ اور روزی، روزگار کا معقول انتظام ہوگا۔ تعلیمی نظام کو بہتر کریں گے۔ ریاست میں ترقی کے رکے ہوئے کاموں کو پھر سے پورا کرایا جائے گا۔









