دیوبند(سمیر چودھری)
مصلح قوم وملت اور بانئی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سر سید احمد خاں کا یوم پیدائش کے موقع پر ڈاکٹر عبید اقبال عاصم علیگ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو روایتی اور عصری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کے لئے 1877ء میں جس محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا سنگ بنیاد رکھا تھا آج وہی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں بین الاقوامی سطح پر سر سید احمد خاںؒ کے خوابوں کا پرچم بلند کئے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خاںؒ نے تن تنہا ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیمی ومعاشرتی بدحالی کو ختم کرنے کے لئے اپنے آپ کو کمر بستہ کرلیا تھا ، سر سید احمد خاں ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو رنگارنگ تھی اور نہایت منفرد وممتاز نیز نہایت پروقار،بلاشبہ وہ انسانیت کے مسیحا،مصلح قوم وملت اور عظیم مفکر تھے ان کے افکار ونظریات آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔نئی روشنی پبلک اسکول کے چیئرمین فائز سلیم صدیقی نے سر سید احمد خاںؒ کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصلح قوم اور عظیم مفکر سر سید احمد خاںؒ کے افکار ونظریات اور ان کی عملی کاوشوں کو ذہن میں رکھ کر یہ غور کرنا چاہئے کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں۔اب جبکہ پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے اور سر کاری وغیر سرکای سطح پر جو دوسرے رپورٹ آرہی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان تمام شعبہ جاب بشمول تعلیم وروز گار کے میدان میں دلتوں سے بھی بدتر ہیں اسلئے موجودہ حالات میں سر سید احمد خاںؒ کے تعلیمی نظریات کو پہلے سے زیادہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
ادھر سماجی تنظیم قاسمی مانو سیوا ٹرسٹ کے زیر اہتمام سرسید ڈے منایاگیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی و عظیم قومی و ملی رہنما سرسید احمد خاں کو یاد کرکے ان کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔ محلہ پٹھانپورہ میں منعقد میٹنگ میں سماجی تنظیم نظر کے صدر نجم عثمانی نے تفصیلی طور پر سر سید احمدخاں کے حالات زندگی اور ان کی بے مثال قربانیوں پر گفتگو کی۔ اس موقع پر ٹرسٹ کے صدر طاہر حسن شبلی نے بتایاکہ جلد ہی سرسید ڈے کے عنوان سے بڑا پروگرام منعقد کرکے سرسید ایوارڈ جاری کیا جائیگا۔ اس موقع پر انصار مسعودی،ساجد،مرتضی قریشی،فیض الحسن،ماہر حسن، نواب عرفان صدیقی اور قمر الزماں وغیرہ موجودرہے۔









