نئی دہلی : (آر کے بیورو)
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا ساورکر سے متعلق بیان وجہ تنازع ہوا ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ساورکر نے گاندھی کے کہنے پر انگریزوں کے نام معافی نامہ لکھا تھا۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے سربراہ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس اپنے رد عمل میں کہاکہ دراصل سنگھ آزادی کی لڑائی میں اپنا رول تلاش کررہاہے ، چونکہ مہا تما گاندھی غیر متنازع لیڈر اور بابائے قوم ہیں اس لئے اپنے لیڈروں اور مفکروں کی غلطی کے لیے ان کے نام کی ڈھال استعمال کررہاہے ۔’ روز نامہ خبریں ‘سے گفتگو کے دوران انہوںنے کہاکہ وہ گاندھی کی جگہ ساورکر لانا چاہتے ہیں مگر گاندھی ان کی مجبوری ہیں ۔
ڈاکٹر الیاس نے کہاکہ وہ کئی سطحوں میں سرگرم ہیں ۔ مسلمانوں کی میڈولی تاریخ کو مختصر کر دیا ۔ دوسرے ملک کی آزادی کی لڑائی میں گاندھی ،نہرو فیملی کے رول کو داغدار بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ یہ سب بے بنیاد باتیں آج ملک میں جو کچھ ہے وہ نہر کی دین ہے ۔ پھر اندرا گاندھی اسے مضبوط بنایا۔ وہ کانگریس کو مسخ کرنا چاہتے ہیں ،پہلے پٹیل کو لائے جو ان کی آئیڈیا لوجی کو سوٹ کرتے ہیں ۔ پھر نیتا جی سبھاش چندر بوس اور ڈاکٹر امبیڈکر کو اپنانے کی کوشش کی ۔ بہرحال یہ لوگ بے حد منظم انداز میں کام کررہے ہیں ۔ مسلمانوں کی تہذیبی شناخت مٹاناچاہتے ہیں۔ جیسے ہمارے پوروچ ایک ہیں ،ابوبکر وعمر نہیں ،رام وکرشن ، سنی طبقہ ان کی چالوں میں نہیں آیا ۔ البتہ شیعہ اور بریلوی کو قریب کرلیا۔ وسیم رضوی کی ناپاک حرکت اسی کوشش کاحصہ ہے ۔
ان کا خیال ہے کہ یہ کام کانگریس بھی کرتی تھی مگر خاموشی سے یہ جارحانہ انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس کا مقابلہ تنہا نہیں مل کر کرنا ہوگا دیگر تہذیبی اکائیوں کو ساتھ لینا ہوگا۔ چھوٹے انٹرسٹ ختم کرکے رد عمل کی سیاست سے گریز کے ساتھ حکمت وتدبر سے کام کریں ،تبھی کامیابی ملے گی ۔









