نئی دہلی :
سکھ مذہب کی سب سے بڑی اکائی شری گرودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) نے آر ایس ایس کے خلاف ایک غیر معمولی قرار داد منظور کی ہے۔جس سے سکھوں کے رویہ اور موجودہ نکتہ نظر کا پتہ چلتا ہے۔ ایس جی پی سی نے اپنے قرار داد میں سخت لب ولہجہ استعمال کرنے کے ساتھ ملک کی موجودہ صورت حال کے پس منظر میں آر ایس ایس کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سنگھ دوسرے مذاہب کی آزادی چھین کر ایک ہندو قوم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
قرارداد میں کمیٹی نے مرکزی حکومت سے آر ایس ایس کی کوششوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے تمام مذاہب کے حقوق اور آزادی کے تحفظ کے لئے کام کرنے کو کہا ہے۔
ایس جی پی سی نے اس قرارداد کے ذریعے سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی عناصر اقلیتوں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں سزا دی جانی چاہئے۔ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایک کثیر لسانی ، کثیر النسل ملک ہے۔ یہاں ہر مذہب کی ملک کی آزادی میں اہم شراکت ہے۔ خصوصا سکھ برادری ، جس نے 80 فیصد سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے مزید کہایہ افسوسناک ہے کہ دوسرے مذاہب کی مذہبی آزادی کو ایک طویل عرصے سے دبایا جارہا ہے ، تاکہ ملک کو ہندوراشٹر بنایا جاسکے۔ براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کے ذریعے اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایس جی پی سی نے آر ایس ایس پر اقلیتی برادری کو اپنے معاملات میں مداخلت کرنے کی دھمکیاں دینے کا الزام عائد کیا۔الزام لگایاجاتا ہے کہ 17 ویں صدی میں مغلوں نے بھی ایسی ہی کوششیں کیں ، جن کا سکھ گرووں نے سخت مخالفت کی تھی۔ نویں سکھ گرو گرو تیغ بہادر نے دیگر برادریوں کی حفاظت کے لئے اپنی عظیم قربانی دی تھی۔
اس میٹنگ میں ایس جی پی سی کی صدر بی بی جاگیر کور اور اکال تخت کے صدر بھی موجود تھے۔ اس دوران کچھ اور اہم قرار داد بھی منظور کی گئیں۔ بتادیں کہ یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ اس میں بنیادی طور پر پنجاب کے کسان شریک ہیں ، جو زیادہ تر سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں سکھوں کے ایک گروپ کو بھی ننکانہ صاحب کے پروگرام کے لئے پاکستان آنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس بارے میں سکھوں میں ناراضگی ہے۔








