لکھنؤ:(ایجنسی)
اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جمعرات کے روز دہلی تشدد کیس کے ملزم طلباء لیڈرعمر خالد کے والد کی ایس پی صدر اکھلیش یادو سے حالیہ ملاقات پر سوال کئے۔
یوگی نے یہاں منعقدایک سماجی نمائندہ کانفرنس میں کہا کہ’ ‘اپوزیشن پارٹیاں کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ابھی حال ہی میں ایک پارٹی کے ساتھ ملنے کے لیے کون آیا تھا.. … عمر خالد کے والد ۔ وہ عمر خالد جو کہتا ہے کہ بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے ۔ وہ شخص (خالد کے والد) سماج وادی پارٹی کے صدر سے ملنے کے لیے آتاہے اور ان کو یقین دلاتا ہےکہ فکر مت کرو، ہم سازش کر رہےہیں ۔‘ انہوں نے کانفرنس میں موجود لوگوں سے کہا ،’ آپ تصور کریں کہ اگر یہ لوگ آئیں گے تو کیا کریں گے ۔‘
قابل ذکر ہے کہ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر سید قاسم رسول الیاس نے 2 اکتوبر کو ایس پی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران تنظیم کے کئی عہدیدار بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ ڈاکٹر الیاس دہلی تشدد سے جڑے معاملوں میں ملزم طلبا ء لیڈر عمر خالد کے والد ہیں ۔ ان کی پارٹی نے اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں ایس پی کو حمایت دینے کااعلان کیا ہے ۔
خالد دہلی تشدد کے حوالہ سے گزشتہ قریب ایک سال سے جیل میں بند ہیں۔ اس سے پہلے وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ ملک مخالفت نعرے لگانے کی وجہ سے سرخیوں میں آئے تھے۔ شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ سال فروری میں شہریت ترمیمی قانون کو لے کر فساد ات ہوئے تھے جن میں 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ خالد پر فساد بھڑکانے اور اشتعال انگیز تقریر دینے سمیت کئی الزامات ہیں ۔
سابقہ حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے یوگی نے کہا کہ کانگریس کی سرکار رہی ہو ، ایس پی یا پھر بی ایس پی کی۔ ان لوگوں نے ذات پات کے نام پر سماجی تانے بانے کو توڑ کرکے پردیش کو فسادات کی آگ میں جھونکنے کا کام کیا تھا۔ انہوں نے پردیش کو مافیا کے سامنے گروی رکھنے کا کام کیا تھا اور جب آپ سب کے آشیرواد سے ریاست میں بی جے پی کی سرکار بنی تب نہ صرف سیکورٹی کا پختہ انتظام کیا گیا بلکہ آج کوئی مافیا عناصر سر اٹھا کر نہیں چل سکتا ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ‘ہم سب کو ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے معاشرے کو تقسیم کیا ہے ، اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ، اس کے سماجی تانے بانے کو توڑ دیا ہے ، ان لوگوں کو سماج نے آنے والے وقت میں تاریخ کے گڑھے میں ڈالنےمیں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کیا۔ یہ ہم سب کے سامنے مثال ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہر شخص کو اپنے ملک پر فخر ہونا چاہیے اور اگر ہم ذات پات سے بچتے ہوئے قوم پرستی کو فروغ دیں گے تو ملک اور معاشرہ دونوں فلاح کی راہ پر آگے بڑھ سکیں گے۔ یوگی نے کہا کہ ایس پی دور حکومت میں گورکھپور میڈیکل کالج میں دو ماہ کے اندر ڈیڑھ ہزار بچوں کی موت ہو ئی تھی ، لیکن اس وقت کے وزیراعلیٰ حالات دریافت کرنے تک نہیں پہنچے تھے ۔









