اردو
हिन्दी
مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افترا پردازیوں کو نقد و نظر کا نام نہ دیں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
افترا پردازیوں کو نقد و نظر کا نام نہ دیں
37
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: عبد السلام عاصم

تمام تر وابستگی کے باوجود مذاہب اور مذہبی نظریات دو مختلف چیزیں ہیں۔ مذاہب کی ایک بنیادی خصوصیت جہاں یہ ہے کہ وہ آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتے، وہیں مذاہب سے وابستہ تنظیمیں چونکہ بنیادی طور پر نظریاتی ہوتی ہیں، خالص مذہبی نہیں؛ اس لئے وہ اپنی جداگانہ پہچان کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس فرق کو جو لوگ سمجھ جاتے ہیں وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بین مذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت گنجائش نکال لیتے ہیں اور جو لوگ اس تفہیم سے نہیں گزر پاتے وہ مخلوط معاشرے میں بھی سماجی یک رنگی پر زور دیتے ہیں۔

اس لحاظ سے دنیا آج بھی نظریاتی فرق کو مقدم رکھنے والوں اورزندگی کی رنگا رنگی اور گونا گونی کو معاشرتی حسن پر محمول کرنے والوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اِس فرق کی وسعت میں بہر حال وہاں کمی آرہی ہے جہاں لوگ بلا لحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت حقیقی تعلیم سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ عصری منظرنامے میں انقلابات زمانہ کے موجودہ موڑ پر یہودیوں اور مسیحیوں کے بعد اب بظاہر مسلمان اور ہندو برادران اِن دنوں اس کشاکش سے دوچار ہیں۔ دونوں کی نفسیاتی کیفیت بہر حال بتاتی ہے کہ وہ اِس راستے کے انتہائی مرحلے سے گزر رہے ہیں، یعنی آئندہ چنددہائیوں میں اِس کیفیت کی شدت فطری طور پر معدوم ہونے لگے گی۔ بہ الفاظ دیگر اِن کی نسلوں کی تباہی کا سلسلہ اب اور دراز نہیں ہوگا۔ حالات سے بیزاری مرحلہ وار بیداری میں تبدیل ہونے جا رہی ہے۔ یہ ادراک آئندہ دہائیوں میں انقلابی تغیر کا پیش خیمہ ہے۔

چند روز قبل عشائیہ کے بعد ایک مانوس لیکن غیر پُرشور رہگزر پر روایتی چہل قدمی کے دوران مجھے نئی اور ادھیڑ عمر والی نسل کے کچھ نمائندوں کی بات چیت سننے کا موقع ملا جو بہ انداز دیگر انتہائی حوصلہ افزا تھا۔ آگے پیچھے نیم ہمقدم شرکائے گفتگو میں ایک نوجوان نے ایک ادھیڑ عمر کے شخص کی کچھ اِس طرح کی تمہید پر مہذب طریقے سے اعتراض کیا کہ ”ارے آپ ان لوگوں کو نہیں جانتے۔۔۔“۔ معترض نوجوان کا کہنا تھا کہ ڈسکورس میں ججمنٹل ذہن سے بات شروع کرکے امکانات کے رُخ پر کسی خوشگوار نتیجے کی امید نہیں کی جا سکتی اور ویسے بھی دین دھرم کے نام پر چند گمراہ لوگوں کی حرکتیں کسی پوری کمیونٹی کو بدنام کرنے کیلئے کافی نہیں ہونی چاہئیں۔ اِس لئے کسی بھی فرقے یا قوم کیلئے یہ تمہید درست نہیں کہ ”ارے آپ اُن لوگوں کو نہیں جانتے“۔ اِس نوجوان کے بلا اشتعال مدلل لہجے سے اتفاق کرتے ہوئے اُس کے ایک دوسرے ساتھی نے کہا کہ ”ایسی ہی افترا پردازیوں کو نقد و نظر کا نام دینے کے نتیجے میں کل جوڈو فوبیا پھیلا تھا نیز صلیبی جنگیں ناگزیر ہوئی تھیں اور آج اسلاموفوبیا کے محاذ پربھی افواہوں اور پروپگنڈوں کے ذریعہ اِسی طرح ظالم اور مظلوم سے باہمی اشتراک کا کام لیا جا رہا ہے“۔ اس نوجوان کی دوٹوک دلیل یہ تھی کہ”ڈر کے کاروبار میں ڈرنے اور ڈرانے والے دونوں حلقوں میں خوف کے دو طرفہ دھندے کے دلال پیدا ہو جاتے ہیں۔۔۔“۔

میرے نزدیک اس بحث کا سب سے زیادہ امکانی پہلو یہ تھا کہ نئی نسل کے ایک حلقے میں بیزاری بیداری کے رخ پر نظر آئی۔یہ سوچ کر میں ایکدم سے اپنی جوانی کے عہد میں لوٹ گیا جہاں دائیں بازو کی سیاست و معاشرت کے خلاف بیزاری ابھی بیداری میں بدل بھی نہیں پائی تھی کہ بائیں بازو کی انتہاپسندانہ سوچ کا کاروبار کرنے والوں نے اِسے اپنے محدود مفادات کیلئے بھنانا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ دہائیوں اِس طرح بے روک ٹوک دراز ہوا کہ بیزاری سے جو بیداری مطلوب تھی، وہی ساقط ہو گئی۔ ایسا کیوں ہوا! اس کے کئی اسباب میں سے ایک سبب یہ تھا کہ بیزاری کیش کرنے والے کچھ موقع پرست ایک دم سے دائیں طرف سے بائیں جانب آ گئے تھے۔ نام گنوانے سے گفتگو متنازعہ ہو جائے گی اس لئے اتنا اشارہ کافی ہے کہ عابدوں اور ملحدوں میں یکساں طور پر مقبول نظم و نثر لکھنے والوں نے پورری ایک نسل کی بیزاری کو بیداری میں بدلنے کی راہ مسدود کردی تھی۔

اِس پس منظر میں عصری منظر نامے پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد دل میں بس یہ تمنا اضطرابی کروٹیں لیتی ہے کہ کونین کی وسعت رکھنے والے لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ کی زنبیل سے کھیلتے عہدِ نو کے بچے بلوغت کے سفر میں اب اور ایسے عناصر کے ہتھے نہ چڑھیں جو ہر انقلاب کو بس اپنے محدود مفادات کیلئے کیش کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر موجودہ نسل کو بھی کہانیوں کا اسیر رکھا گیا تو کل وہ بھی حسبِ سابق جوانی کا سفر شعوری طور پر طے نہیں کر پائیں گے۔ جبکہ فطرت کا تقاضہ ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ انسان مرحلہ وار عقل، شعور اور علم سے روشناس ہوتا جائے تاکہ اُس کی بہادری طفلانہ طور پر بے ہنگم نہ رہے اور اُس کی بزدلی اُسے انجانے خوف کا شکار نہ بناتی پھرے۔

وطن عزیز میں عقائد کی اسیر دو بڑی قومیں اس وقت آپس میں اس طرح بر سر پیکار ہیں کہ ایک اپنی شکایات کا اپنی شرطوں پر ازالہ نہ ہونے پر نالاں ہے اور دوسری بری طرح اندیشوں اور وسوسوں کی زد پر ہے۔ اس صورتحال کو شدید سے شدید تر بنانے میں وہ افواہیں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں جو پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں اطلاعات کی جگہ لے چکی ہیں۔ حکومتیں بظاہر غیر شاہی ہیں لیکن اُن کا مزاج بباطن شاہانہ ہے۔ عوام کی خدمت اِس طرح کی جاتی ہے جیسے اُن پر احسان کیا جا رہا ہے۔ جہل سے روایتی اور علم سے منفی استفادہ کرنے کی روش آج بھی عام ہے۔سابقہ حکومتوں نے جس قومی جہالت پر چھ دہائیوں تک عیش کیا، موجودہ حکومت ایک دہائی سے اُسی جہالت کو کیش کر رہی ہے۔

لوگ اپنے سوا سب کے بارے میں کچھ نہ کچھ رائے رکھتے ہیں اور اِس میں وہ اِس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ سر اٹھا کر یہ دیکھنے کی فرصت نہیں کہ سب ایک دوسرے کے آئینے میں سراپا ننگے ہیں۔ اپنے ہم مذہب بزرگوں کے بارے میں غلونے ان کی آنکھوں کے پھیلاؤ کو اتنا کم کر دیا ہے کہ وہ محدود سمت میں پٹے دار گھوڑے کی طرح سرپٹ بھاگے جا رہے ہیں۔ دوسرے کے زاویہء نظر کو کوئی سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔ عقائد کی لن ترانیوں کا کاروبار کرنے والوں نے لوگوں کی سماعت کو بس سننے اور جھومنے کی حد تک اس بری طرح محدود کر دیا ہے کہ کچھ سمجھنا تو درکنار سوچنے تک کو ایسے لوگ گناہ سمجھنے لگے ہیں۔ متاثرہ اقوام کے آرٹ اور کلچر کے تجار بھی لوگوں کو حربی جنون میں مبتلا کر کے داد وصول کر رہے ہیں۔ انٹرٹینمنٹ کے نام پر ہر شام منی اسکرین، ٹیبلیٹ اور موبائیل پر لوگوں کو بس ملکی اور غیر ملکی جنگی تماشوں کا انتظار رہتا۔ ویسے بھی دنیا کے قابل لحاظ حصے میں امن دو جنگوں کے بیچ تھکان اتارنے کے وقفے میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔

ایسا نہیں کہ تمام ترقی یافتہ ممالک اِس عذاب والی سماجی کیفیت سے نجات پا چکے ہیں۔ ان میں بھی کچھ کم تو کچھ زیادہ ایسے ہیں جن کی اکثریت تعلیم یافتہ کم اور تعلیم زدہ زیادہ ہے۔ ان میں امریکہ اور چین الگ الگ طریقے سے سرفہرست ہیں۔ امریکہ صرف رنگ اور نسل کے امتیاز سے باہر نکلنے میں ناکام نہیں بلکہ غلبہ پسند عزائم کے بوجھ تلے اُس کے حوصلے ٹوٹنے بھی لگے ہیں۔ وہاں کسی بھی مصیبت سے متعلق کانسپریسی تھیوری بیچنے والے ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کے تعویز اور گنڈہ فروشوں کو بھی مات دینے لگے ہیں۔ کوویڈ 19 کے تعلق سے امریکہ کی اکثریت کے اندھ وشواس کا مقابلہ شاید کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا ہے۔دوسری طرف چین اپنے توسیع پسندانہ بحری اور برّی عزائم کی تاریکی میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ وہ ہر اندیشے کو ہچکولہ سمجھ کر انجوائے کر رہا ہے۔اُس کی موقع پرستانہ سیاست نے دنیا کے ایک بڑے حلقے کی زندگی عذاب کر رکھی ہے۔

ان سب کے باوجوداس وقت دنیا کے دو خطوں جنوبی اور مغربی ایشیا میں تغیر کا سفربظاہر نتیجہ خیزی کے رُخ پر ہے۔ بالترتیب ایک طرف بیزاری کی شام ہو رہی ہے تو دوسری طرف بیداری کے قدم دیارِ صبح میں نظر آ رہے ہیں۔ دونوں تبدیلیوں کی موافقت اور مخالفت کا بازاربھی خوب گرم ہے۔ کوویڈ 19 کے بعد یہ دوسرے دو اہم حوالے ہیں جنہوں نے اقوام عالم کی توجہ اپنی طرف مبذول کر رکھی ہے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Iran Leadership Change Analysis News
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
Sanjeev Srivastava Kachori Controversy Debate
مضامین

بی بی سی نیوز کے انڈیا ہیڈ رہے سنجیو سریواستو کے کچوری کی دکان کھولنے پر اتنا ہنگامہ کیوں ہے؟

24 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammed bin Salman Iran Role Claim

ایران پر حملہ میں محمد بن سلمان کا کا ا ہم رول؟ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Trump Warning Iran Military Claim

لڑائی میں مزید امریکی فوجی مارے جاسکتے ہیں ٹرمپ کی وارننگ، ایران کی ملٹری کمانڈ ختم کرنے کا دعویٰ

مارچ 2, 2026
Jamiat Iran Solidarity Statement News

اسرائیلی بربریت سے عالمی امن تہہ و بالا، جمعیتہ کا دکھ میں ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجتی

مارچ 2, 2026
US Bases Missile Attacks Middle East

مڈل ایسٹ میں 27 امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے ،کرا چی میں امریکی سفارتخانہ میں توڑ پھوڑ ،دس مظاہرین مادے گئے، تہران میں دھماکے

مارچ 1, 2026
Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Gas Cylinder Black Market News

ملک بھر میں گیس ایجنسیوں پر لمبی قطاریں، سلینڈر کی کالابازاری، پانچ ہزار تک مل رہا ہے، افراتفری کا ماحول

مارچ 12, 2026
Iran Drone Attack Claim News

ایران کیلیفورنیا پر کسی بھی لمحہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے۔ اعلیٰ امریکی ڈرون ایکسپرٹ کا دعوی

مارچ 12, 2026

حالیہ خبریں

Iran Leadership Change Analysis News

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

مارچ 12, 2026
4pm YouTube Channel Ban

یوٹیوب چینل 4 PM بند کرنے کا حکم ، قومی سلامتی کا حوالہ

مارچ 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN