نئی دہلی(ایجنسی)
سیاسی پالیسی ساز پرشانت کشور نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آنے والی دہائیوں تک ہندوستانی سیاست میں ایک مضبوط طاقت بنی رہے گی۔ کشور کا ماننا ہے کہ بی جے پی سے ’’کئی دہائیوں تک‘‘ لڑنا ہو گا۔ کشور نے کہا کہ جس طرح 40 سال پہلے تک کانگریس اقتدار کا مرکز بنی رہی، ایک بار جب کوئی قومی سطح پر 30 فیصد ووٹ حاصل کرلیتا ہے تواتنے جلدی سیاسی تصویر سے نہیں ہٹتا۔
گوا میوزیم میں پرشانت کشور نے کہاکہ اس جال میں بالکل نہ پھنسئے کہ لوگ مودی (وزیر اعظم نریندر مودی) سے ناراض ہیں اور انہیں اقتدار سے باہر کر دیں گے۔ ہوسکتا ہے لوگ مودی کو اقتدار سے باہر کردیں لیکن بی جے پی کہیں نہیں جا رہی ہے ۔ آپ کو اس سے اگلے کئی دہائیوں تک لڑناہوگا۔
انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق کشور نے کہاکہ ‘اس معاملے میں راہل گاندھی کے ساتھ مسئلہ ہے۔ شاید انہیں لگتاہے کہ بس کچھ وقت میں لوگ انہیں (نریندر مودی) کو اقتدار سے ہٹا دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ کشورنے کہاکہ جب تک آپ مودی کی طاقت کا اندازہ نہیں لگالیتے، آپ انہیں ہرانے کے لیے کبھی بھی کاؤنٹر نہیں کرپائیں گے۔ زیادہ تر لوگ ان کی طاقت کو سمجھنے میں وقت نہیں لگا رہے ہیں۔ جب تک آپ یہ نہ سمجھ جائیں کہ ایسی کون سی چیز ہے جو انہیں مقبولیت بنا رہی ہے تب تک آپ ان کو کاؤنٹر نہیں کر پائیں گے۔
پرشانت کشور نے کہا کہ ‘آپ کسی بھی کانگریس لیڈر یا کسی بھی علاقائی لیڈر سے جاکر بات کر کریں، وہ کہیں گے، بس کچھ وقت کی بات ہے، لوگ ان سے ناراض ہیں۔ اقتدار مخالف لہر آئے گی اور لوگ انہیں اقتدار سے باہر کر دیں گے لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔
کشور نے کہاکہ ‘اگر ہم ووٹر بیس دیکھیں تو لڑائی ایک تہائی اور دو تہائی کے درمیان ہے۔ صرف ایک تہائی لوگ بی جے پی کو ووٹ دے رہے ہیں یا بی جے پی کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ دو تہائی حصہ اس قدر بکھرا ہوا ہے کہ وہ 10، 12 یا 15 سیاسی پارٹیوں میں بٹ گئے ہیں اوریہ بنیادی طور سے کانگریس کے زوال کی وجہ ہے۔ انہوں نےکہاکہ یہ اس لئے ہے کیونکہ کانگریس کی حمایت کم ہو گئی ہے ۔ 65 فیصد عوامی مقبولیت بکھر گئی ہے۔ جس سے بہت سارے لوگ اور چھوٹی چھوٹی پارٹی بن گئی ہے ۔










