بنگلور : (ایجنسی)
کرناٹک کی بسواراج بومئی حکومت نے وزارت برائے اقلیتی بہبود کو ہدایت دی ہے کہ وہ گزشتہ 25 سالوں میں جن لوگوں نے دھرم پریورتن کیا ہے ان کے بارے میں جانکاری مہیا کرائی جائے۔ نیوز ایجنسی ’ آئی اے این ایس‘ نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کےحوالہ سے کہا ہے کہ پسماندہ اور اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی میٹنگ 13اکتوبر کو ہوئی تھی۔ جس کےبعد یہ اطلاع مانگی گئی تھی اور قانون ساز اسمبلی کے جوائنٹ سکریٹری نے اس تعلق سے محکمہ اقلیتی بہبود کو مکتوب روانہ کیا تھا۔
اس خط میں سفارش کی گئی ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو پولیس محکمہ، ریونیوڈپارٹمنٹ ، محکمہ سماجی بہبود ، ضلع کمشنروں اور چیف ایگزیکٹیو افسران کے ساتھ تال میل قائم کرکے دھرم پریورتن کےبارے میں جانکاری جمع کی جانی چاہئے۔ اس خط میں یہ بھی یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے کہ معلومات جمع کرنے کے دوران رجسٹرڈ گرجا گھروں کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ تبدیلی مذہب کےبارے میں 30 دنوںکے اندر معلومات جمع کریں۔
محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ چتردرگا ضلع کے ہوسادورگا میں واقع بیتھل بیپٹسٹ چرچ کے بارے میں معلومات اکٹھا کرے۔ ادھر 28 اکتوبر کو کرناٹک سرکار نے مجازاور غیر مجاز گرجا گھروں اور بائبل سوسائٹی کے سروے کو فی الحال روک دیا ہے ۔ پہلے یہ سروے کرانےکا فیصلہ لیا گیا تھا ۔
محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی فی الحال اس سلسلے میں دائر درخواست پر ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ تبدیلی مذہب کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے حالیہ حکم کا مقصد ریاست میں جبری تبدیلی کے عمل کو روکنا ہے۔









