نئی دہلی 🙁 رپورٹ مسیح الزماں انصاری )
|شمالی تریپورہ میں مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور مساجد پر مبینہ طور پر ہندوتوا تنظیموں کی طرف سےایک ہفتہ تک چلاحملہ تقریباً تھم گیا ہے ۔ علاقے میں دفعہ 144 لگا دی گئی ہے جس کے بعد 4 سے زیادہ شخص ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ ہندوتوا تنظیموں کے یہ حملے بنگلہ دیش میں درگا پوجا کے دوران اقلیتوں پر حملوں کی بنیاد پر کیے گئے۔
حملوں کا یہ سلسلہ ایک ہفتے تک چلنے کے بعد منگل 26 اکتوبر کو پانیساگر روا میں اور بھی پرتشدد ہوگیا جب وشو ہندو پریشد ، آر ایس ایس اور بی جے پی کے کارکنوں نے 8 ہزار لوگوں کی ریلی نکال کر مبینہ طور پر مسلمانوں کی 8 دکانوں کو پولیس کی موجودگی میں جلا دیا۔ اس واقعہ کے بعد انتظامیہ نے نوٹس لیا مگر ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوسکی ہے ۔
تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیب کے سکریٹری پرشانت گوئل نے انڈیا ٹومارو کو بتایا کہ ’حکومت کی طرف سے نوٹس لیا گیا ہے، کچھ لوگوں کی شناخت بھی کر لی گئی ہے، پولیس اس معاملے کی سرگرمی سے جانچ کر رہی ہے۔ مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

حالانکہ متاثرین کا الزام ہے کہ پولیس کی موجودگی میں پہلے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی، پیٹرول ڈالا گیا اور پھر آگ لگا دی گئی۔ پولیس اس سارے معاملے پر خاموش تماشائی بنی رہی۔
رووا پانیساگر سے بی جے پی کے ایم ایل اے بنائے بھوشن داس نے انڈیا ٹومارو کو بتایا کہ، ’وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی ریلی میں شامل کارکنوں کی طرف سے تشدد ہوا ہے ،لیکن ملزم کی شناخت کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ اسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔‘
ان الزامات کی روا پانیساگر پولیس اسٹیشن کے اے ایس آئی اُدے رام نے بھی تصدیق کی ہے۔ اے ایس آئی ادے رام نے انڈیا ٹومارو کو بتایا کہ، ’آر ایس ایس اور وی ایچ پی کی ریلی میں شامل کارکنوں نے مسلمانوں کی دکانوں کو جلایا، جس کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے، جلد ہی گرفتاری ممکن ہے۔‘
مبینہ طور پر وی ایچ پی کے ذریعہ جلائے گئے ان آٹھ دکانوں کے مالکان نے انڈیا ٹومارو کو بتایا کہ جب انہوں نے بھیڑ کا یہ ارادہ دیکھا کہ وہ روا پانیساگر کی جامع مسجد پر حملہ کرنے کی تیاری سے آئی ہے ۔ بھاری مقدار میں پٹرول، جے سی بی اور دوسرے سامان لے کر آئےہیں تو چوراہے پر موجود تمام مسلم دکانداروں نے مسجد بچانے کی فراق میں اپنی دکانیں چھوڑ کر مسجد کی طرف بھاگے اور تمام لوگ جمع ہوکر مسجد کی حفاظت کے لیے مسجد کےسامنے کھڑے ہوگئے ۔ تبھی فسادیوں نے مسجد کی طرف نہ بڑھ کر چوراہے پر موجود مسلمانوں کی آٹھ دکانوں کو آگ کے حوالہ کردیا۔
عینی شاہد نظام الدین کے مطابق وشو ہندو پریشد کی ریلی تقریباً 4:00-4:30 بجے روا پانیساگر پہنچی اور ہنگامہ کھڑا کردیا۔ متاثرین میں سے ایک جلال الدین نے کہاکہ وہ میرے نبی کو گالی دے رہا تھا۔ وہ مسلسل توہین آمیز نعرے لگا رہا تھا۔ دکان جلانا برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن ہمارے نبی کی ایسی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔
آتش زنی میں اپنی دکان گنوا چکے عامر ، امیل الدین ، اور صنوفر نے انڈیا ٹو مارو کو بتایا کہ اگر ہم مسجد بچانے کے لیے نہیں جاتے تو وہ اس مسجد کو بھی نشانہ بناتے۔ ہم نے اپنی دکانیں گنواکر مسجد کو بچایا۔ پولیس موجود تھی مگر فسادیوں نے بے روک ٹوک اپنا کام کرتے رہے ۔
ایک متاثرہ امیر حسین نے بتایا کہ منگل کو آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بی جے پی کے لوگ 8-10 ہزار کی تعداد میں ایک ریلی کے ساتھ روا پانیساگر پہنچے تھے۔ انہوں نے مسجد پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن آس پاس کے مسلمان جمع ہو گئے اور مسجد کو بچانے میں کامیاب ہو گئے۔
تاہم ان ایک ہفتے میں تریپورہ کے 5 اضلاع میں 12 سے زیادہ مساجد کو نقصان پہنچا ہے۔ مسجد میں قرآن پاک جلانے کی تصویر بھی وائرل ہوئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک بی جے پی ہائی کمان یا وزیر اعلیٰ تریپورہ کی طرف سے اس واقعہ کی مذمت یا قصور واروں کے خلاف کارروائی کی کوئی بات نہیں کی گئی۔
پانیساگر میں مسلمانوں کی جو آٹھ دکانیں جلائی گئیں وہ امیر حسین، امیل الدین، نظام الدین، صنوفر، یوسف علی، جمال الدین، محمد علی اور سلطان حسین کی تھیں جو آگ لگنے سے مکمل طور پر جل گئیں۔
عامر کی بجلی کے سامان کی دکان تھی اور تقریباً 12 لاکھ کا نقصان ہوا۔ امیل الدین کی راشن کی دکان تھی، جس کا 17 لاکھ کا نقصان تھا۔ نظام الدین کی کاسمیٹک اور موبائل لوازمات کی دکان تھی، جس کا تقریباً 10 لاکھ کا نقصان ہوا۔ صنوفر اور صنوہر دو بھائیوں کی کپڑوں، جوتوں اور اسکول کے تھیلوں کی دکان تھی، جس میں تقریباً 15 لاکھ کا نقصان ہوا ہے۔ یوسف علی کی راشن کی دکان تھی جس میں 15 لاکھ کا نقصان ہوا ہے۔ جمال الدین کی فوٹو کاپی کی دکان تھی جس کی مشین، کمپیوٹر اور پرنٹر ٹوٹ گئے جس سے تقریباً 7 لاکھ کا نقصان ہوا۔ محمد علی کی جوتوں، کپڑوں اور کاسمیٹک کی دکان تھی جس کا 5 لاکھ کا نقصان ہوا اور سلطان حسین کی فوٹو کاپی کی دکان تھی جس کا 3 لاکھ کا نقصان ہوا۔
متاثرین کے مطابق یہ تمام دکانیں پولیس کی موجودگی میں جلا دی گئیں۔ متاثرین نے پولیس سے فسادیوں کو روکنے کی اپیل کی تو پولیس نے کہا کہ ہم تعداد میں بہت کم ہیں ہم انہیں نہیں روک سکتے۔
پانیساگر میں تشدد کے بعد دھرمن نگر کے ایس ڈی پی او نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ پولیس مساجد کی حفاظت کر رہی ہے۔ دھرمن نگر کے ایس ڈی پی او نے بھی مسلمانوں سے کہا کہ ہمارے پاس اتنی پولیس فورس نہیں ہے۔
تاہم، تریپورہ کے وزیر اعلیٰ کے سکریٹری کا کہنا ہے کہ پولیس اس معاملے کو سرگرمی سے دیکھ رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں مکمل سیکورٹی فراہم کی گئی ہے، پولیس فورس تعینات کی گئی ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ جب تک پولیس نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ مساجد کی حفاظت پولیس کر رہی ہے، تب تک 12 سے زیادہ مساجد اور درجنوں دکانوں کو فسادیوں نے نشانہ بناچکے تھے۔
دہلی ہو یا تریپورہ دونوں مقامات پر پولیس کی موجودگی میں فسادیوں کےدریعہ مسلمانوں کی مساجد، دکانوں اورگھروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ ملک کی راجدھانی دہلی سے لے کر شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست تریپورہ میں اقلیتوں پر حملےکا پیٹرن یکساں ہے ۔ سرکار، پولیس ، حملہ آور اورمتاثرین تمام اسکرپٹ میںایک جیسے ہیں ۔
(بشکریہ: India to morrow.net)










