ممبئی ؍ مراوتی : (ایجنسی)
مہاراشٹر کے امراوتی میں بی جے پی کی طرف سے بلائے گئے بند کے دوران مسلمانوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، توڑ پھوڑ کی گئی اور آگ لگا دی گئی۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، کوتوالی کے پولیس سربراہ نے کہا کہ بند کے دوران بی جے پی، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے اور پولیس کے لیے انہیں سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ یہ لوگ راج کمل چوک پر جمع ہوئے تھے۔ ہجوم میں سے کچھ نے تشدد کا سہارا لیا، دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، انہیں آگ لگا دی اور یہاں تک کہ کچھ گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ جمعہ کو اقلیتی برادری کے تشدد کے جواب میں تشدد کرنے کے لیے تیار ہو کر ہوئے تھے۔ ان کے سامنے کھڑی دو گاڑیوں میں آگ لگا دی گئی، ایک دکان میں توڑ پھوڑ کی گئی اور پھر آگ لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ دو عبادت گاہوں کو نقصان پہنچا گیا۔
اس سے قبل اقلیتی برادری کے لوگوں نے جمعہ کو تریپورہ میں تشدد کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کے دوران مقامی بی جے پی لیڈر پروین پوتے کے گھر پر پتھراؤ کیا گیا جس سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دوسری جگہ پتھراؤ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔ اس مظاہرے میں تقریباً 25 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔
اس کے جواب میں بی جے پی نے ہفتہ کو بند رکھا اور احتجاج کیا۔ جس میں تقریباً 6000 افراد نے شرکت کی۔ پولیس نے جمعہ کے احتجاج سے متعلق 15 اور ہفتہ کے احتجاج سے متعلق 11 مقدمات درج کیے ہیں۔ اس کے علاوہ 60 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مہاراشٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس راجندر سنگھ نے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے، اتوار کو فلیگ مارچ کیا گیا۔ اس علاقے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی مخلوط آبادی ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی ہے۔ آخری بار یہاں 1990 کی دہائی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔
بتادیں کہ وشو ہندو پریشد نے بنگلہ دیش میں ہندو مندروں اور درگا پوجا پنڈال پر حملوں کے خلاف 26 اکتوبر کو پانیساگر، تریپورہ میں ایک ریلی نکالی تھی۔ اس ریلی کے دوران دو برادریوں کے لوگوں میں لڑائی ہوئی جس کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔ اقلیتی برادری کے لوگوں نے الزام لگایا کہ ان کی تین دکانوں کو نذر آتش کیا گیا اور تین گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کے علاوہ ایک مسجد میں توڑ پھوڑ، چوری اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کا بھی الزام ہے۔
دوسری طرف سے کی گئی شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ وی ایچ پی کی ریلی پر حملہ کیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ تمام الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے۔
ریاستی وزیر اطلاعات سشانت چودھری نے کہا ہے کہ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ پانیساگر میں کسی مسجد کو آگ نہیں لگائی گئی۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ کچھ بیرونی لوگوں نے اپنے فائدے کے لیے سوشل میڈیا پر مسجد کو جلانے کی جعلی تصاویر اپ لوڈ کیں۔










