گروگرام:(ایجنسی)
قومی دارالحکومت دہلی سے متصل گروگرام کی گرودوارہ سنگھ سبھا کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے اپنے کمپلیکس میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے اپنے دروازے کھول رہی ہے، لیکن ملینیم سٹی کے کسی بھی گرودوارے میں مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا نہیں کی۔
گرودوارہ کمیٹی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ گروپرو تقریبات کی وجہ سے مسلمانوں نے خود کسی بھی تنازع سے بچنے کے لیے گرودوارہ میں نماز جمعہ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ کمیٹی نے کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ اگلے ہفتے کیا جائے گا۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے ترجمان دیا سنگھ نے کہا،’کمیٹی نے نماز کے لیے جگہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیاتھا، اگر مسلمانوں کو پریشانی کا سامنا ہے تو انہیں یہاں نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے گی۔ لیکن گروپرو کی وجہ سے جمعہ کو مسلمانوںنے خود کسی بھی تنازع سے بچنے کے لیے یہاں نماز پڑھنے سے انکار کردیا تھا۔ ہم اگلے ہفتہ نمازپر حتمی فیصلہ لیں گے ۔‘
انہوں نے کہا کہ جب ہم کانوڑ یاترا یا نگر کیرتن نکال سکتے ہیں تو پھر عوامی یا کھلی جگہ پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج کیوں ہے؟ 1984 کے فسادات میں مسلمانوں نے ہزاروں سکھوں کی جانیں بچا کر بھائی چارے کا پیغام دیا تھا۔
دریں اثنا، ایک مقامی باشندے، لکھی رام یادوونشی نے نماز پڑھنے کے لیے اپنی زمین کی پیشکش کی ہے۔ یادوونشی نے کہا کہ میں نے مسلم ایکتا منچ کے صدر سے رابطہ کیا تاکہ وہ انہیں نماز ادا کرنے کے لیے زمین کی پیش کش کی جا سکے۔ کچھ لوگ ہیں جو علاقے میں امن میں خلل ڈالنا چاہتے ہیں ۔ میں مسلم بھائیوں کو نماز ادا کرنے کے لیے اپنی زمین کی پیشکش کر رہا ہوں۔
قبل ازیں 18 نومبر کو گروگرام کے صدر بازار کی گرودوارہ ایسوسی ایشن نے عوامی اور کھلی جگہوں پر نماز ادا کرنے پر اعتراض کے بعد جمعہ کی نماز کے لیے اپنے احاطے میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بتا دیں کہ گزشتہ دنوں گروگرام (گڑگاؤں) انتظامیہ نے 37 میں سے آٹھ جگہوں پر نماز پڑھنے کی اجازت واپس لے لی تھی۔ ضلع انتظامیہ کے ایک سرکاری بیان کے مطابق، مقامی لوگوں اور ریذیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن (آر ڈبلیو اے) کے اعتراضات کے بعد اجازت منسوخ کر دی گئی۔ اس سے پہلے کئی مواقع پر گروگرام کے رہائشیوں نے عوامی میدانوں میں نماز جمعہ کے خلاف شکایت اور احتجاج کیا تھا۔










