نئی دہلی :(ایجنسی)
گزشتہ ایک سال سے جاری کسان تحریک کو لے کر آج اہم فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ ہفتہ کو سنیکت کسان مورچہ کی میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹنگ میں کسان تحریک کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ساتھ ہی اس میٹنگ میں یہ بھی طے کیا جاسکتا ہے کہ کسانوں کی تحریک ختم ہوگی یا نہیں۔ میٹنگ سے پہلے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کچھ باتوں پرہمارا اتفاق ہوچکا ہے۔ وہیں دہلی پولیس نے کسانوں کی میٹنگ سے قبل سنگھو بارڈر پر بھی سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔
میٹنگ سے پہلے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ آج تحریک کس طرح آگے بڑھے گی اس پر بات چیت کی جائے گی۔ کل، ہریانہ کے کسان لیڈروں اور وزیر اعلیٰ کے درمیان مقدمات پر اتفاق ہوا تھا لیکن معاوضہ کو لےکر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں ایم ایس پی، اجے مشرا ٹینی ، کسانوں پر مقدمات اور کسانوں کا معاوضہ یہ تمام ایشوز شامل ہیں۔ بھارت سرکار جب تک چاہےگی تب تک یہ آندولن چلتا رہےگا۔
ہفتہ کو سنگھو بارڈر پر کسان لیڈروں کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں کئی فیصلے لیے جائیں گے۔ ان میں ایم ایس پی اور دیگر مسائل پر ایک کمیٹی بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے مانگے گئے پانچ ناموں پر بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کسانوں کے خلاف درج مقدمات، احتجاج کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوگی۔ اس دوران دہلی پولیس نے کسان لیڈروں کی میٹنگ سے قبل احتجاجی مقام سے دہلی جانے والی تمام سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
غور طلب ہے کہ وزیر اعظم مودی کے زرعی قوانین کو واپس لینے کے اعلان کے بعد، تینوں زرعی قوانین واپس لینے کے بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے بھی اس پر حتمی منظوری دے دی ہے۔ زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد بھی کسان دہلی سے متصل سرحدوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ کسان ایم ایس پی کی قانونی ضمانت پر اڑے ہوئے ہیں۔
تاہم، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کسانوں کو ایم ایس پی کے بارے میں یقین دہانی کرائی ہے۔ نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ ایم ایس پی جاری ہے اور آنے والے کل میں بھی جاری رہے گی۔ وزیراعظم نے ایم ایس پی پر غور کرنے اور اسے موثر اور شفاف بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، وہ کمیٹی اس پر مزید غور کرے گی۔










