گوہاٹی : (ایجنسی)
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانت بسوا سرما نے کہا کہ بھارت کے باہر بحران میں مبتلا ہندوؤں کا ملک میں خیرمقدم کیا جاتا ہے کیونکہ ہندوستان ایک ہندو اکثریتی ملک ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بابر دور سے پہلے ہندوستان میں ہر شخص ہندو تھا۔
نیوز- 18 انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سی اے اے سے متعلق ایک سوال پر، سرما نے کہا، ’بھارت ایک ہندو اکثریتی ملک ہے، اگربھارت کے باہر کسی ہندو کو پریشانی ہو رہی ہے تو ملک میں آپ کا استقبال ہے ۔ بھارت ہر ہندوکی جڑ ہے۔ برابر دور سے پہلے ہر کوئی کوئی ہندو تھا۔‘
انہوں نے مزید پوچھا کہ مندروں کی تعمیر کی بات کرنے والوں کو فرقہ وارانہ کے طور پر کیوں دیکھا جاتا ہے۔ سرما نے کہا، ’صرف مندر ہی کیوں؟ اگر پرانے مندروں کو دوبارہ بنایا جائے اور دوبارہ تیار کیا جائے تو کیا غلط ہے۔ ہم ہندو ہیں، ہم ہندو ہی رہیں گے۔ ایک ہندو ہونے کے ناطے میں زیادہ سیکولر ہوں۔‘
سرما نے جولائی میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ہندوتوا ایک طرز زندگی ہے اور دعویٰ کیا تھا کہ زیادہ تر مذاہب کے پیروکار ہندوؤں کی اولاد ہیں۔ ہندوتوا 5000 سال پہلے شروع ہوا تھا اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر نے یہ بات ریاست میں اپنی حکومت کے دوسرے مہینے کی تکمیل کے موقع پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔
سرما نے کہا، ’’ہندوتوا زندگی کا ایک طریقہ ہے۔ میں یا کوئی اسے کیسے روک سکتا ہے؟ یہ زمانے سے بہتا چلا آ رہا ہے۔ ہم تقریباً سبھی ہندوؤں کی اولاد ہیں۔ یہاں تک کہ ایک عیسائی یا مسلمان بھی کسی نہ کسی وقت ہندوؤں سے نکلا ہے۔‘
’لو جہاد‘ کے مسئلہ کے بارے میں پوچھے جانے پر چیف منسٹر نے کہا کہ کسی کو بھی کسی عورت کو دھوکہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔’ ’حکومت کسی بھی عورت کے ساتھ دھوکہ نہیں کرے گی، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان۔ ہماری بہنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے مجرموں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘‘










