نئی دہلی :(ایجنسی)
رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں، جیو کا منافع (YoY) 23.4 فیصد کے اضافہ کے ساتھ 3,728کروڑ روپے رہا۔ پچھلی یعنی پہلی سہ ماہی میں جیو کو 3,651 کروڑ کا منافع ہوا تھا۔ ایرٹیل نے بھی دوسری سہ ماہی میں 1,134کروڑ روپے کا منافع ہوا۔
وہیں ووڈافون کو دوسری سہ ماہی میں 7,132 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ووڈافون کے لیے ٹیرف میں اضافہ کرنا کمپنی کے بقایا کےلیے ضروری ہے ۔ لیکن ایرٹیل اور جیو کے لیے ٹیرف میں اضافہ کرنا کیوں ضروری تھا؟
عام طور پر کوئی کمپنی بازار میں غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ایسی حالت میں وہ کمپنی متعلقہ شعبہ میں اکیلی ہوتی ہے یا اس کے حریف اس قدر کمزور حالت میں ہو کہ وہ کچھ کرنے سے قاصر ہوں۔ لیکن ٹیلی کام کے معاملے میں یہ صورتحال عجیب ہے۔ اب بھارت میں اس شعبے کی کمپنیوں کی تعداد کم ہو کر تین رہ گئی ہے اور تینوں نے یکے بعد دیگرے ٹیکس ٹیرف میں اضافہ کیا ہے۔
یہ ایک کارٹیل بنا کر صارفین کا خون چوسنے کے مترادف ہے۔ 2016 میں، سی سی آئی نےایسے ہی کارٹل کے ذریعہ ملی بھگت کی مدد سے سیمنٹ کی قیمتوںمیں اضافہ کے معاملے میں 11 سیمنٹ کمپنیوں پر 6,300کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا تھا۔
حال ہی میں، سی سی آئی نے ایسے ہی معاملے میں بیئر کمپنیوں کے خلاف 873 کروڑ روپے کاجرمانہ لگایا ہے۔ یہی کارٹل جیسی صورتحال ٹیلی کام میں بھی نظر آرہی ہے ۔ ایک کمپنی ٹیرف میں اضافہ کرتی ہے اور کچھ دنوں کے اندر ہی دونوں کمپنیاں بھی ایسا کر دیتی ہے ۔ یہ وقت اس معاملے میں ریگولیٹری مداخلت کا ہے۔










