نئی دہلی : (ایجنسی)
معروف مورخ پروفیسر چمن لال نے ایک ٹی وی شو میں ویر ساورکر سے متعلق تلخ سچائی پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس نے ایک واقعہ سنایا جس میں ویر ساورکر نے انگریزوں کے خلاف بھگت سنگھ کے ساتھیوں کی کسی بھی بھوک ہڑتال میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
انہوں نے ساورکر کی رحم کی درخواستوں پر آر سی مجمدار کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انڈمان میں اس وقت 498 قیدی تھے۔ اس دوران ساورکر کے ساتھ کئی قیدی طویل عرصے سے بند تھے۔ ساورکر نے انڈمان میں صرف 10 سال گزارے، لیکن ان میں سے ایک ترلوک ناتھ چترویدی 40 سال سے زیادہ عرصے سے بند تھے۔ ان میں بھگت سنگھ کے ساتھی بھی 15-16 سال سے بند تھے۔ اس دوران قیدیوں نے کئی بھوک ہڑتالیں کی تھیں لیکن ساورکر ان کے ساتھ کبھی شامل نہیں ہوئے۔
ان میں حصہ لینے والے کچھ قیدی بھوک کے سبب مربھی گئے تھے۔ ساورکر پر اس شہادت کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ 14 نومبر 1914 کی درخواست پر انہوں نے کہا کہ ساورکر نے اس میں برطانوی حکومت کو مائی باپ بتایا اس طرح درخواست کی تھی جو شرمسار کرنے والی تھی۔ آج تک کے شو میں پروفیسر چمن لال نے کہاکہ ساورکر نے انگریزی سرکار کے سامنے گھٹنے ٹیکے تھے۔
حال ہی میں ساورکر کے حوالے سے کئی متنازع بیانات سامنے آئے ہیں۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ساورکر کے خلاف جھوٹ پھیلایا گیا کہ انہوں نے انگریزوں سے بار بار معافی مانگی، لیکن سچائی یہ ہے کہ انہوں نے معافی کی درخواست خود نہیں دی، مہاتما گاندھی نے انہیں کہا کہ وہ رحم کی درخواست فائل کریں۔ انہوں نے یہ عرضی مہاتما گاندھی کے کہنے پر دی تھی۔
تاہم اس دوران لوگوں نے کئی فورمز پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے راج ناتھ کے نقطہ نظر کو مسترد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اگر بی جے پی لیڈر راج ناتھ کو درست قرار دیتے ہیں تو اپوزیشن کیمپ انہیں کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ساورکر برطانوی راج کے پچھ لگوکی طرح سےکام کررہے تھے ۔ انہوں نے انڈمان جیل سے باہر آنے کے لیے کئی بار معافی مانگی ۔










