نوح میوات:( محمد صابر قاسمی)
ہریانہ کے گورنر بنڈارو دتاتریہ کی میوات آمد پر نوح کے ایم ایل اے چودھری آفتاب احمد، پنہانہ کے ایم ایل اے چودھری محمد الیاس اور فیروز پور جھرکہ کے ایم ایل اے چودھری مامن خان نے گڑگاؤں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو لے کر ہندو شدت پسندوں کے ذریعے جاری جارحانہ رخنہ اندازی کے بارے میں تینوں ایم ایل ایز نے گورنر کو ایک خط سونپا ہے۔ خط کے ذریعے گورنر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری اثرو رسوخ سے وقت رہتے مداخلت کریں اور نماز پڑھنے والے لوگوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کا تحفظ کریں۔
نوح کے ایم ایل اے اور سی ایل پی کے ڈپٹی لیڈر چودھری آفتاب احمد نے کہا کہ گورنر ہریانہ شہداء کی سرزمین میوات پہلی بار تشریف لائے ہیں، اس کے لیے ہم گورنر ہریانہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
آفتاب احمد نے بتایا کہ ضلع کے تینوں ایم ایل ایز نے گڑگاؤں شہر میں نماز جمعہ کے سلسلے میں ہندتوادی ہندو شدت پسندوں کی طرف سے نماز جمعہ کی ادائیگی میں کی جا رہی رخنہ اندازی کے حوالے سے گورنر کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ آفتاب احمد نے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر اور ڈی جی پی پی کے اگروال آئی پی ایس کو بھی اس معاملے میں اس سے قبل آگاہ کیا ہے، لیکن ابھی تک مناسب اور ضروری قدم نہیں اٹھائے گئے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ہر جمعہ کو مسلم کمیونٹی دن میں ایک بجے سے دو بجے کے درمیان نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر گڑگاؤں میں دیکھا گیا ہے کہ ہندو شدت پسند شرارتی عناصر کی جانب سے نماز جمعہ کے دوران جارحانہ رخنہ اندازی کی جانے لگی ہے۔
اس حوالے سے آفتاب احمد نے کہا کہ یہ اس معاملے میں اب سر سے اوپر پانی جا رہا ہے جو سراسر غلط اور ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ جمعہ کے روز شرپسند عناصر نے جس طرح سے نمازیوں سے دھکا مکی کرکے ہراساں کیا ہے وہ کسی بھی طرح ناقابل برداشت ہے۔ جو صاف طور پر آئینی اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انتظامیہ کی طرف سے 2018 میں108 جگہ کی نشاندہی کی گئی تھی ان جگہوں پر شرارتی عناصر کی طرف سے نماز جمعہ میں گڑبڑ کرنا سراسر غلط ہے۔ شرارتی عناصر کا اس طرح کا رویہ پولس انتظامیہ کی موجودگی میں ہونا ریاست کی امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں ۔
کانگریس کے تینوں ایم ایل اے نے گورنر پر زور دیا کہ وہ ہریانہ کی حکومت سے کہیں کہ وہ سماج دشمن عناصر کو فوری طور پر روکے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولس انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ کو تحریری طور پر فوری طور پر احکامات جاری کریں، تاکہ گڑبڑ پیدا کرنے والوں سے وقت رہتے ہوئے سختی سے نمٹا جائے۔










