گروگرام (ایجنسی)
گڑگاؤں کامیڈی فیسٹیول کے منتظمین نے عوامی تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کو اپنے فنکاروں کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ منتظمین نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران انہیں بار بار کالس اور آن لائن پیغامات موصول ہوئے جن میں 17 تا 19 دسمبر کو ایریہ مال میں منعقدہ 3 روزہ فیسٹیول میں فاروقی کی شرکت کی شدید مخالفت کی گئی ہے۔
دی انٹرٹینمنٹ فیکٹری کے شریک بانی مبین تیسکر اس تقریب کا انعقاد کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا یا عوام کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم نے انھیں (منور فاروقی کو) پینل سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ کل کیا گیا اور ہم نے پوسٹر اور ٹکٹنگ پلیٹ فارم پر تبدیلیاں کیں۔ ہمارے لیے فنکاروں، سامعین اور عوام کی حفاظت ہی سب کچھ ہے‘‘۔
تیسکر نے کہا کہ پوسٹر لگنے کے بعد انہیں آن لائن ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ٹویٹس کے بعد ہمیں بار بار ہر جگہ سے کالیں آئیں۔ ہم اس سب کے ساتھ آگے نہیں بڑھنا چاہتے تھے۔ میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا کہ کون لوگ فون کر رہے تھے اور شکایت کر رہے تھے‘‘۔
بی جے پی ہریانہ کے آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ارون یادو نے منور فاروقی کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی، جس میں ان پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی توہین کا الزام لگایا گیا اور پولیس سے کہا گیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ پرفارم نہ کریں۔ یادو نے شکایت میں لکھا کہ ’’سماج کے مختلف طبقات کے درمیان امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کو دیکھیں اور اسے روکیں۔ اس کی سرگرمیوں سے میرے ہندو عقیدے کو ٹھیس پہنچی ہے‘‘۔
یادو نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ’’میں نے 4 دسمبر کو پہلے ٹویٹ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کے شو کو گڑگاؤں یا کسی اور جگہ پر اجازت نہ دی جائے۔ میں نے آج اے سی پی سوہنا کے یہاں شکایت درج کرائی ہے‘‘۔










