نئی دہلی : (ایجنسی)
بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے کے تمام اقدامات کے درمیان، ایک 65 سال پرانا قانون اب بھی موجود ہے جو جائیداد کے معاملے میں خواتین اور مردوں کے درمیان بھید بھاؤ کرتا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کی اور ہندو جانشینی ایکٹ کے امتیازی دفعات پر مرکز کی رائے طلب کی۔ درحقیقت ہندو جانشینی ایکٹ کے مطابق اگر کوئی شادی شدہ بے اولاد مرد مر جاتا ہے تو اس کی جائیداد بلا شبہ اس کے والدین کے پاس چلی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی بیوہ بے اولاد عورت فوت ہو جاتی ہے، تو اس کی جائیداد (والدین سے ملی جائیداد کے علاوہ( اس کے ساس – سسر یا رشتہ دار کی ہوتی ہے۔
یہی مسئلہ کو ایمیکس کیوری میناکشی اروڑہ نے سپریم کورٹ کے سامنے اٹھایا۔ ٹی او آئی کی خبر کے مطاق مناکشی اروڑہ نے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اورجسٹس اے ایس بوپنا کی بنچ کے سامنے جائیداد کی جانشینی قانون میں اس بھید بھاؤ کا معاملہ اٹھایا ۔
بنچ نے کہا کہ بیوہ عورت کی موت کے بعد اس کی جائیداد پر سب سےپہلا حق شوہر کے والدین اور رشتہ داروںکا ہونا، صاف طور پر بھید بھاؤ مانا۔ بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے اس مسئلے پر چار ہففوں کےاندر سرکار کے موقف کی وضاحت کرنے کو کہا۔
خاص بات یہ ہے کہ اگر بے اولاد بیوہ اپنے والدین سے ملی جائیداد کو بیچ کر ، ان پیسوں سے نئی جائیداد خریدتی ہے تونئی جائیداد کو اس کے والدین سے ملی جائیداد کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا اور نہ ہی عورت کی موت کے بعد اس کے والدین کا اس پر حق رہتا ہے ۔
سپریم کورٹ میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ ہندو جانشینی ایکٹ میں درج خامیوں کو دور کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک قانون لانا ہوگا۔ بنچ نے مہتا کے اعتراض سے اتفاق کیا اور کہا کہ قانون میں اس دیرینہ امتیاز کو ختم کرنے کے لئے عدالتی یا قانون سازی کے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔










