بنگلور :(ایجنسی)
معلومات کے مطابق یہ واقعہ یکم دسمبر کا بتایا جا رہا ہے۔ دراصل مسلم کمیونٹی کے دو نوجوانوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے ان میں سے ایک کو حراست میں لے لیا۔
متاثرشخص نے پولیس پر الزام لگایا ہے کہ اسے حراست میں لے کراس کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ اسے تقریباً تین گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ کے مطابق جب اس نے پانی مانگا تو بوتل میں پیشاب بھر کر پلایا گیا۔ یہی نہیں اس کی داڑھی بھی کاٹ دی گئی۔ الزام ہے کہ مار پیٹ کی وجہ سے ان کے پرائیویٹ پارٹ میں بھی چوٹ آئی ہے۔
متاثرنوجوان کا کہنا ہے کہ سب انسپکٹر ہریش اور دو کانسٹیبلوں نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر مار پیٹ کی۔ ذرائع کی مانیں تو الزامات کی ابتدائی تفتیش میں واقعہ میں سب انسپکٹر کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ معاملے کی شکایت اعلیٰ حکام تک پہنچنے کے بعداے سی پی سطح کے ایک افسر کو الزامات کی جانچ کرنے اور ڈی سی پی ویسٹ زون، بنگلور کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔










