نئی دہلی : (ایجنسی)
اگلے چند ماہ میں یوپی سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ لہٰذا تبدیلی مذہب، لو جہاد اور لینڈ جہاد جیسے سیاسی مسائل کے حوالے سے ماحول گرم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے ان مسائل کے خلاف 21 دسمبر سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
اس کے تحت وی ایچ پی کارکنان گھر گھر جا کر مہم چلائیں گے۔ وی ایچ پی کے ترجمان ونود کمار بنسل نے دینک بھاسکر کو بتایا کہ ملک کی ڈیموگرافی میں بدلاؤ آرہاہے۔ ملک میں ’منی پاکستان‘ اور ’منی ویٹیکن‘ بنائے جا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک کی انتظامیہ کو اس کا علم نہیں۔ ہمیں فکر کرنی چاہیے۔
بنسل سے پوچھا گیا کہ آپ کی تنظیم تبدیلی مذہب سے متعلق کوئی ڈیٹا تیار کر رہی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا- بالکل، ابھی ہم نے مدھیہ پردیش کے جھابوا ضلع کا ڈیٹا تیار کیا ہے۔ پچھلی تین دہائیوں میں 53 چرچ بنائے گئے تھے۔ یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ انتظامیہ کے پاس ان کاکوئی اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ سب سرکاری زمین پر بنائے گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں- ‘ہمیں یہ ڈیٹا آر ٹی آئی سے ملا ہے۔ ہم نے ضلع جھابوا میں تحصیل وار طریقے سے آر ٹی آئی دائر کی ہے۔ تین اہم سوالات پوچھیں۔ وہاں کتنے گرجا گھر ہیں؟ کتنے لوگوں نے مذہب تبدیل کے لیے درخواست دی؟ کتنے چرچ بنانے کی اجازت دی گئی؟ اب جواب بھی سن لیجئے – اس کے لیے کوئی صحیح اعداد و شمار نہیں ہیں۔ کوئی علم نہیں ،انتظامیہ بے خبر ہے۔ سب سے نیچے کی لائن واضح ہے کہ انتظامیہ کو ضلع کی بدلتی آبادی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے نہ صرف مشنریوں کو نشانہ بنایا بلکہ اسلام کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، آپ نے منی ویٹیکن کے ساتھ بھارت میں بن رہے منی پاکستان کا بھی ذکر کیا؟ بنسل نے بتایا کہ لو جہاد کا پردہ فاش ہوا تو سب کےسامنے آگیا۔ اترپردیش میں جس طرح سے کارروائی ہوئی اور نیٹ ورک سامنے آیا تو اس میں اب کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں کہ اسلامک تنظیم کس طرح سے بھارت میں سازش کررہی ہیں۔










