نئی دہلی : (ایجنسی)
تین زرعی قوانین بننے کے بعد تقریباً 15 ماہ سے احتجاج کر رہے کسانوں نے آج اس وقت احتجاج ختم کرنے کا اشارہ دیا ہے جب حکومت نے کسانوں کے تقریباً تمام مطالبات کو تسلیم کر لیا ہے۔ حالانکہ ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن سنیکت کسان مورچہ اور میڈیا کے ذرائع کے حوالے سے جو خبریں آئی ہیں اس میں حکومت کسانوں کی مانگیں مانتی ہوئی نظر آرہی ہے۔تاہم، اس میں کچھ پیچ بھی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اسی وجہ سے سنیکتکسان مورچہ نے اب بدھ کو اس پر فیصلہ لینے کے لیے میٹنگ بلائی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ حکومت نے کون سے مطالبات مان لیے ہیں اور حکومت کی اس تجویز میں آخر کیا ہے؟بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کسانوں کو تحریری یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہے کہ ان کے ایم ایس پی جیسے مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔
مرکز اپنی تجویز کے تحت ایم ایس پی مدعے پر فیصلہ کرنےکے لیے ایک کمیٹی بنائے گا۔ کمیٹی میں سرکاری افسر، زراعت سے تعلق رکھنے والے ماہرین اورسنیکت کسان مورچہ کے نمائندہ شامل ہوں گے ۔
مرکز نے کسانوں کے خلاف تمام پولیس مقدمات ختم کرنے پر راضی ہوگئی ہے ۔ اس میں گزشتہ کئی مہینوں میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تشدد ،جھڑپوں کے تعلق سے ہریانہ اوراترپردیش کے ذریعہ درج کئے گئے کیس بھی شامل ہیں۔ کسانوں کی جانب سے کھیتوں میں پرالی جلانے کو لے کر کئے گئے کیسز بھی ہٹائے جائیں گے ۔
کسانوں نے کہا ہے کہ حکومت کی پیشکش میں کہاگیاہے کہ جب ہم تحریک ختم کریں گے تبھی وہ کسانوں کے خلاف معاملے واپس لیں گے ۔ مقدمہ واپس لینے کی حکومت کی تجویز میں اس نکتہ پر اتنی وضاحت نہیں ہے۔ کسان مورچہ نے کہا ہے کہ وہ اس بارے میں مشکوک ہیں۔ کسانوں نے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کرے۔
کسانوں کے چھ مطالبات
ایم ایس پی کے حوالے سےگارنٹی قانون بنانا
تحریک کے دوران کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں۔
بجلی کا ترمیمی بل واپس لیا جائے۔
مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کی برطرفی
تحریک کے دوران مارے گئے کسانوں کو معاوضہ
پرالی جلانے پر کسانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا خاتمہ
تاہم تمام کسان یونینوں کی تنظیم سنیکتکسان مورچہ نے آج ایک میٹنگ کی، لیکن حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اب بدھ کو دوبارہ اجلاس ہوگا۔










