نئی دہلی :(ایجنسی)
زرعی قوانین کی واپسی کے بعد کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ تاہم کسانوں نے حکومت کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب کل دوپہر 12 بجے پھر کسانوں نے ملاقات کریں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت نے فوری کیس واپسی بات کہی ہے۔ ایسے میں اب کل یعنی جمعرات کو سنیکت کسان مورچہ کی میٹنگ طے ہوئی ہے ۔
ایس کے ایم کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابقسنیکت کسان مورچہ نے حکومت ہند سے ایک نظر ثانی شدہ مسودہ تجویزموصول ہونے کی تصدیق کی ہے اور تجویز کو قبول کرتےہوئے ایس کے ایم کے اندر ایک عام اتفاق بن گئی ہے۔ اب سرکارکے لیٹر ہیڈ پر دستخط کئےگئے رسمی لیٹر کاانتظار ہے۔ ایس کے ایم کل دوپہر 12 بجے سنگھو بارڈ رپر پھر سے میٹنگ کریں گے اور اس کے بعدمورچہ کو ہٹانے کےلیے رسمی فیصلہ کیا جائےگا۔
کسانوں کا مطالبہ
کسان تنظیم ایگریکلچر آرگنائزیشن قوانین کے خلاف احتجاج کر رہی تھی۔ اب حکومت اسے واپس لے چکی ہے۔ تاہم، کسان اب بھی ایس ایس پی پر قانونی گارنٹی چاہتے ہیں۔ اسکے علاوہ کسان آندولن کے دوران ہریانہ، اترپردیش اورمدھیہ پردیش میں کسانوں پر درج کیس کو واپس لینے کی مانگ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کی مانگ ہےکہ لال قلعہ تشدد میں مظاہرین پر درج کیس بھی واپس لئے جائیں۔
کسانوں نےسرکار کی تجویز میں تین نکات پر اعتراضات درج کرائی ہے ۔
1- کسانوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ زرعی قوانین کے مسودے میں شامل تھے، انہیں ایم ایس پی پر کمیٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ صرف سنیکت کسان مورچہ میں شامل تنظیموں کو اس میں جگہ دی جائے۔
2-کسانوں کا کہنا ہےکہ پہلے کیس واپس لے سرکار، اس کے بعد آندولن واپس لیا جائے گا۔
3- کسانوں کا کہنا ہے کہ سرکار نظریاتی طور سے معاوضہ دینے کے لیے تیار ہے، لیکن جس طرح سے پنجاب سرکار نے انہیں معاوضہ دیا ہے، ویسے ہی آندولن کےدوران جان گنوانےوالے کسانوںکو معاوضہ ملنا چاہئے۔










