نئی دہلی :(ایجنسی)
وزیر اعظم مودی کے انتباہ کے باوجودلوک سبھا میں بی جے پی ممبران پارلیمنٹ کی حاضری کم رہی۔ وہیں حکمراں پارلیمنٹ سے زیادہ میں حزب اختلاف ایوان میںموجود تھے۔ صبح 11 بج کر 10 منٹ پر لوک سبھا میں بی جےپی کےصرف 58 ممبران پارلیمنٹ موجودتھے۔ وہیں اپوزیشن کی دو قطاروں کی سیٹیں بھڑ گئی تھیں اور وہاں 90 ایم پی بیٹھے تھے ۔ حالانکہ تھوڑی دیر میں صورت حال بدلی اوربی جے پی کے 83 ممبران پارلیمنٹ آگئے ، وہیں اپوزیشن کے 81 ممبران پارلیمنٹ ہی رہ گئے۔
بتا دیں کہ وزیر اعظم مودی نے ممبران پارلیمنٹ کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ سب کو صبح 11 بجے سے 1 بجے تک ایوان میں موجود رہنا ہوگا۔ حالانکہ صبح 58 ارکان کے ساتھ صرف 9 وزراء تھے۔ وزیر نے سوالوں کا جواب دینا تھا۔ منگل کو پارٹی ممبران پارلیمنٹ کی میٹنگ کے دوران پی ایم مودی نے کہا تھا کہ ممبران پارلیمنٹ اپنا رویہ بدلیں ورنہ بڑی تبدیلی لانی پڑے گی۔
بتا دیں کہ سرمائی اجلاس کے دوران ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ پہلی ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے سخت رویہ اپناتے ہوئے وارننگ دی تھی۔ میٹنگ میں موجود ایک رکن پارلیمنٹ نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے اراکین پارلیمنٹ سے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ سے بچوں کی طرح بات کرنا اچھا نہیں ہے۔
پی ایم مودی پہلے ہی کئی مواقع پر ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں۔ بی جے پی ایم پی نے کہا، ’’ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اسے وارننگ کے طور پر لیا ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود نہ ہونے پر آئندہ کارروائی ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم مودی سے پہلے پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے پارلیمنٹ میں موجودگی سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔
واضح رہے کہجب پی ایم مودی نے وارننگ دی تھی، اس دوران اپوزیشن 12 ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کو لے کر مظاہرہ کر رہی تھی۔ وزیر اعظم مودی نے یہاں تک کہا تھا کہ کاشی وشواناتھ کوری ڈور کے افتتاح میں شرکت کریں گے یا نہیں کریں گے لیکن پارلیمنٹ میں موجود ہونا ضروری ہے۔ وزیر اعظم مودی 13 دسمبر کو کاشی وشوناتھ کوری ڈور کا افتتاح کرنے والے ہیں۔










