بھوپال؍ کٹنی : (ایجنسی)
مدھیہ پردیش کے کٹنی ضلع کے ایس پی کے حکم پر ہنگامہ مچ گیا ہے۔ ضلع میں گورنر کے دورے سے عین قبل ایک خط جاری کرتے ہوئے، ایس پی نے سکھوں اور مسلمانوں کو دہشت گردوں کےزمرے میں رکھتے ہوئے خصوصی نظر رکھنے کی ماتحتوں کو ہدایت دی، جسپر ہنگامہ ہوگیا۔
دراصل گورنر منگوبھائی چھ پٹیل کے ضلع میں دورے کےدرمیان حفاظتی انتظامات کو لےکر ایس پی کٹنی سنیل جین نے یہ ہدایت جاری کیا۔
اپنے دو صفحات کے حکم میں ایس پی جین نے عام ہدایات پر مشتمل فہرست کے ہدایت نمبر چھ میں لکھا، ’سکھ، مسلم، جے کے ایل ایف، الفا، سیمی، ایل ٹی ٹی ای دہشت گردوں پر سخت نظر رکھی جائے۔‘ ہدایات میں کہا گیا، ’7 دسمبر کووی وی آئی پی انتظامات میں شامل تمام فورسز صبح 10 بجے پولیس لائن کٹنی میں موجود ہوں گی، انچارج افسران اپنی اپنی فورسز کو بریفنگ دیں گے اور انہیں ڈیوٹی پر بھیجیں گے۔

دراصل مدھیہ پردیش کے گورنر منگو بھائی چھ پٹیل ریوا پہنچے تھے۔ ان کے قیام پر 7 دسمبر کو دوپہر ایک بجے ریوا سرکٹ ہاؤس سےکے کار کےذریعہ کٹنی پہنچنا تھا۔ سرکٹ ہاؤس میں تھوڑی دیر رکنے کے بعد، انہیں 3:30 بجے سڑک کے ذریعے جبل پور کے لیے روانہ ہونا تھا۔ انہوں نے وی وی آئی پی موومنٹ اور ڈیوٹی میں مصروف عملے کو کل 23 گائیڈ لائنز دیں۔
ایس پی کا حکم وائرل ہوتے ہی ہنگامہ ہوگیا۔ حکومت مخالف جماعتیں اور بڑے لوگ حرکت میں آگئے۔ سکھوں اور مسلمانوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے ایس پی کے حکم کی مذمت کا دور شروع ہو گیا۔ اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
ایس پی کو جیسے ہی اپنی ‘غلطی سمجھ آئی، انھوں نے بغیر کسی تاخیر کے وضاحت کی اور کہا، ‘غلطی سے ہوا ہے۔ حکم کے الفاظ میں غلطی پر معذرت خواہ ہوں۔
دوسری طرف ضلع کے ایڈیشنل ایس پی منوج کیڈیا بھی میڈیا کے سامنے آئے۔ انہوں نے کہاکہ ’’اس کا مقصد مذاہب کے مختلف گروہوں کا ہونا تھا۔ لفظ گروہ شاید فریب سے نہیں آیا ہے۔ مستقبل میں ایسی غلطی نہیں ہوگی۔‘‘
ایس پی کٹنی کا حکم وائرل ہونے کے بعد مدھیہ پردیش کانگریس نے ایس پی اور شیوراج حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا ممبر دگ وجے سنگھ نے بدھ کی رات ایک ٹویٹ میں کہا، ‘بہت قابل اعتراض۔ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو دہشت گردوں سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟ یہ ذہنیت معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے جس کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ سرکاری دستاویزات میں اس قسم کے سرکاری اہلکار کا ذکر کرنا غیر آئینی ہے۔ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔










