لکھنؤ (ایجنسی)
ایس پی صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ لال ٹوپی کا خوف بی جے پی لیڈروں کو ستا رہا ہے۔ وہ اپنا سیاسی وجود خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی لال بتی بجھنے والی ہے۔ بی جے پی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے سماج وادی پارٹی پر بے بنیاد الزامات لگانے شروع کر دیے ہیں۔
ایس پی صدر نے کہا کہ بی جے پی لیڈر جو ہندوستانی ثقافت کا راگ الاپتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ لال رنگ ہنومان جی کا ہے۔ لال رنگ زندگی میں تبدیلی اور خوشی کی علامت ہے۔ لیکن، بی جے پی اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی پالیسیاں نفرت پھیلانے والی ہیں۔
بی جے پی لیڈروں کو ملک کے جذبات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کسانوں اور نوجوانوں کے مسائل کے تئیں ان کا رویہ نظر انداز ہے۔ بی جے پی کسانوں سے کئے گئے وعدوں کو بھول گئی ہے۔ یہی نہیں، انہوں نے اپنے انتخابی قرارداد میں جو وعدے کیے تھے، انہیں بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔
روزگار کے جھوٹے اعدادوشمار سے نوجوانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں پارٹی اور فرد کو زبان اور رویے کی حدود سے پہچانا جاتا ہے۔ بی جے پی کی قیادت میں زبان کا ضبط ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کا طرز عمل بھی حد سے گزرتا نظر آنے لگا ہے۔
اوپر سے اپوزیشن لیڈروں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے ذاتی الزامات لگانا جمہوریت میں ناپسندیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اندازہ ہو گیا ہے کہ ایس پی کو 2022 میں جوعوامی مقبولیت ملی گی۔ ایسے میں وہ ذاتی الزامات لگانے سے پیچھے نہیں ہٹ رہےہیں۔










