نئی دہلی : (ایجنسی)
سپریم کورٹ کے سابق جج اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کے موجودہ چیئرمین جسٹس ارون مشرا نے فرضی انکاؤنٹر کے بارے میں بڑا انکشاف کیا ہے۔ جمعہ کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ ملک میں فرضی انکاؤنٹر جیسے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کی عوام کے تئیں ذمہ داری ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔
صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند بھی اس پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔ جسٹس مشرا نے کہا، ’ہر کسی کے حقوق مطلق نہیں ہیں لیکن سماجی تانے بانے کے مطابق ان کا خیال رکھا جانا چاہیے۔‘ حقوق اور فرائض ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
انصاف ملنے میں تاخیر کے بارے میں جسٹس مشرا نے کہا کہ’اگر انصاف ملنے میں تاخیر ہوتی ہے تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ اس لیے فوری انصاف دینے کا نظام ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیشن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ریاستیں اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ عوام کے مفاد میں جو پالیسیاں بنائی جائیں ان پر بھی عمل کیا جائے۔
جمعہ کو لوک سبھا میں حکومت نے بتایا کہ ملک میں فی ایک لاکھ آبادی پر دو جج ہیں۔ وزیر قانون کرن رججو نے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 10 لاکھ کی آبادی پر 21.03 جج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام خطے اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔









