غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تقریباً 19 برس بعد غزہ کی پٹی میں اپنی حکومتی انتظامیہ تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو غزہ کی سیاسی صورتحال میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد ایک تکنیکی (ٹیکنوکریٹ) کمیٹی کے ذریعے شہری امور چلانے کی راہ ہموار ہوگی۔
حماس نے 2007 میں فتح تحریک سے اقتدار سنبھالنے کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالا تھا۔ گزشتہ برس جنگ بندی کے بعد تنظیم کئی مرتبہ یہ عندیہ دے چکی تھی کہ وہ روزمرہ حکومتی معاملات سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے عسکری ڈھانچے اور ہتھیاروں سے متعلق معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
ایمرجنسی کمیٹی تحلیل، سربراہ نے استعفیٰ دے دیا
غزہ کے گورنمنٹ میڈیا آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفراء نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور کمیٹی کو باضابطہ طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے تاکہ طے شدہ انتظامی تبدیلی کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
نئی انتظامیہ کے لیے راستہ ہموار
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تنظیم نے غزہ کی حکمرانی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا ہے تاکہ اسرائیل کو مزید کارروائی کا کوئی جواز نہ مل سکے۔ ان کے مطابق اب نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کو غزہ کے شہری انتظامی امور سنبھالنے کا موقع ملے گا۔
یہ کمیٹی امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد غزہ میں مستقبل کی سول انتظامیہ قائم کرنا اور جنگ کے بعد بحالی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
کمیٹی اب بھی غزہ سے باہر موجود
رپورٹس کے مطابق NCAG کئی ماہ سے غزہ سے باہر موجود ہے کیونکہ اسرائیل نے تاحال اس کے ارکان کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ دوسری جانب اسرائیل واضح کر چکا ہے کہ وہ نہ تو حماس کی دوبارہ حکمرانی قبول کرے گا اور نہ ہی فوری طور پر فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کا کنٹرول دینے پر آمادہ ہے۔
بین الاقوامی ردعمل
غزہ کے لیے قائم امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف نے حماس کے فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلان عمل درآمد کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق باقی معاملات طے ہوتے ہی نئی انتظامی کمیٹی اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہے۔









