نئی دہلی:(ایجنسی)
گزشتہ تین مالی سالوں سے 31 اکتوبر 2021 تک نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ( این ایچ آر سی ) کےذریعہ سالانہ طور پر درج کئے گئے تقریباً 40 فیصد انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملے اکیلے اترپردیش سے ہیں۔
’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ معلومات مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے 8 دسمبر کو راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے حاصل کی گئی ہیں۔دراصل، ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ ایم شانموگم نے ایوان میں پوچھا تھا کہ کیا ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتا نند رائے نے کہاکہ این ایچ آر سی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات اکھٹی کی ہیں اور ان کی تحقیقات کی ہیں۔
رائے نے اپنے جواب میںاین ایچ آر سی کی طرف سے درج کئے گئے ڈیٹا بھی پیش کیا۔
این ایچ آر سی کی طرف سے درج کیے گئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کل کیسز 2018-2019 میں 89,584 سے کم ہو کر 2019-2020 میں 76,628 اور 2020-2021 میں یہ تعداد گھٹ کر 74,968 ہوگئی ہے۔اعداد وشمار کے مطابق 2021-2022سے 31 اکتوبر تک 64,170معاملے درج ہوئے تھے۔ کل معاملوںمیں سے اترپردیش میں 2018-2019میں41,947، 2019-2020 میں 32,693معاملے، 2020-2021میں 30,164معاملے اور 2021-31 اکتوبر 2022تک 24,242معاملے درج ہوئے۔ وہیں 2018-2019میں دہلی میں 6,562معاملے، 2019-2020میں 5,842معاملے، 2020-2021میں 6,067معاملے اور 31 اکتوبر 2021 تک 4,972معاملے درج کئے گئے۔









