لکھنؤ؍باندہ: (ایجنسی)
اتر پردیش کے باندہ میں سیکڑوں گایوں کو زندہ دفن کرنے کے معاملے میں انتظامیہ نے بڑی کارروائی کی ہے۔ اس معاملے میں نارائنی نگر پنچایت کے ایگزیکٹیو انجینئر کے ساتھ اب نارائنی کے ایس ڈی ایم سرجیت سنگھ کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
یہ پورا معاملہ باندہ ضلع کی تحصیل نارائنی کا ہے جہاں اس ہفتے نارائنی کی گوشالوں سے سیکڑوں گایوں کو ٹرکوں میں بھر کر باندہ سے متصل مدھیہ پردیش کے جنگل میں زندہ دفن کردیا گیا تھا۔ ان میں سے کچھ گائیں دفن ہونے کے بعد بھی سانس لے رہی تھیں اور کچھ زخمی حالت میں بچ نکلی تھیں۔ حالانکہ وہ بھی موت کے منہ میں چلی گئی۔
گئو کشی معاملے کی اطلاع ملنے کے بعد ضلع میں کھلبلی مچ گئی۔ گئو سیوک، گائے بھکت اور سماجی کارکن بینر اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور ضلع انتظامیہ کے خلاف زبردست احتجاج کرنا شروع کردیا۔ معاملے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ایم ایل اے راجکرن کبیر نے پورے واقعہ کا جائزہ لیا اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات بھی کی۔
لوگوں کے غصے کےمدنظرباندہ کے ڈی ایم انوراگ پٹیل نے پورے معاملے کی جانچ کا حکم دیا اور باندہ کے سی ڈی او ڈی کے موریہ کو ذمہ داری سونپی۔ سی ڈی او نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ ضلع مجسٹریٹ باندہ کو پیش کی، جس میں نارائنی نگر پنچایت کے ایگزیکٹیو انجینئر امر بہادر سنگھ اور نارائنی کے ایس ڈی ایم سرجیت سنگھ کو مشتبہ اور قصوروار پایا گیا۔ اس کے بعد دونوں افسران کو معطل کر دیا گیا۔









