نئی دہلی :(ایجنسی)
اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم اترپردیش قانون ساز اسمبلی انتخابات کے لیے ایک سیاسی محاذ بنائے گی۔ اس محاذ میں پانچ جماعتیں شامل ہوں گی۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ اس کا اعلان 12 دسمبر کو کانپور میں ہونے والے ونچیت شوشیت سمیلن میں کیا جائے گا۔ اویسی ایک محاذ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی پارٹی فیصلہ کن پوزیشن پر آ سکے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر شوکت علی نے بتایا کہ ان کی پارٹی پہلے ہی اعلان کردہ 100 سیٹوں پر اسمبلی انتخابات لڑے گی۔مورچہ کے دیگر متحدہ پارٹی باقی 303 سیٹوں پر انتخابات لڑیں گی۔ اس ماہ بھی اویسی یوپی کے کئی اضلاع میں ونچیت شوشیت سمیلن سے خطاب کریں گے۔ 12 دسمبر کو کانپور کے بعد، 18 دسمبر کو میرٹھ، 19 دسمبر کو بجنور کے نگینہ، 25 کو فیروز آباد، یکم جنوری کو سہارنپور میں بھی ایسی کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ اس سے قبل اویسی نے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے تحت سلطان پور، اتراولہ، رودولی، بارہ بنکی، جونپور، غازی آباد، سہارنپور، مظفر نگر، مراد آباد اور سنبھل میں اس طرح کی کانفرنسوں سے خطاب کرچکے ہیں۔
یوپی انتخابات کے لیے تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی تال ٹھوک رہی ہیں۔ اکھلیش یادو نے آر ایل ڈی کی مدد سے ایک مضبوط محاذ تیار کیا ہے، جب کہ کانگریس پرینکا گاندھی کی مدد سے انتخابی جنگ میں آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پرینکا یوپی میں مسلسل دستک دے رہی ہیں۔ لکھیم پور کے واقعے کے وقت وہ ایک بلند آواز تھیں۔ انہوں نے خواتین کے لیے بھی کئی اعلانات کرکے پارٹی کو لڑائی میں لانے کی پوری کوشش کی ہے۔ لیکن یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ پرینکا کا یہ داؤ کتنا کارآمد رہا ہے۔
دوسری طرف بی جے پی بھی کئی پارٹیوں کی مدد سے میدان فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، او پی راج بھر اس کا دامن جھٹک چکے ہیں ۔ لیکن پھر بھی کئی چھوٹی بڑی پارٹی کوسادھ کر وہ یوپی جیتنے کی کوشش میں ہے۔ پی ایم مودی کے ساتھ یوگی مسلسل یوپی کے الگ الگ علاقوںمیں پارٹی کو بیڑا پارکرنے کے لیے اجلاس کررہے ہیں ۔ بی جے پی کی کوشش ہے کہ انتخاب کئی پولرائزڈ بیان دیاجائے ۔ اسی کے سبب کسان آندولن کو واپس لیاگیا ہے، جس سے کسانوںکی ناراضگی پارٹی کےصحت پر بھاری نہ پڑے جائے۔









