نئی دہلی :(ایجنسی)
انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور عرف پی کے نے کہا ہے کہ 1984 کے بعد سے کانگریس نے اپنے بل بوتے پر کوئی لوک سبھا الیکشن نہیں جیتا ہے اور پچھلے دس سالوں میں پارٹی 90 فیصد انتخابات ہار چکی ہے۔ کشور نے کہا ہے کہ کانگریس کا متبادل ممکن ہے۔ پرشانت کشور نے یہ باتیں انڈیا ٹوڈے کو دیے گئے انٹرویو میں کہیں۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پی کے، جنہوں نے ان کے انتخابی پالیسی سازکے طور پر کام کیا ہے، نے گزشتہ چند دنوں میں کئی بار کانگریس پر حملہ کیا ہے۔
پی کے نے کہا کہ کانگریس کو جمہوری طریقے سے اپنے صدر کا انتخاب کرنا چاہئے۔ نام لیے بغیر راہل گاندھی پر حملہ کرتے ہوئے پی کے نے کہا کہ بی جے پی کو ٹویٹ کرکے، کینڈل مارچ کرکے اور پریس میٹنگ کرکے ہرایا نہیں جاسکتا۔
پی کے نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کانگریس قیادت کے ساتھ ان کی بات چیت دو سال تک جاری رہی اور وہ تقریباً کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ پی کے نے چند ماہ قبل کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سے ملاقات کی تھی اور پھر ان کے کانگریس میں شامل ہونے کے چرچے زور پکڑ تھے۔ کشور نے ایک بار پھر کہا کہ ہندوستان کی سیاست اگلی چند دہائیوں تک بی جے پی کے گرد گھومے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی چیزوں کو بہت سنجیدگی سے سنتے ہیں۔ پرشانت کشور نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ راہل گاندھی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ عرصے بعد لوگ وزیر اعظم مودی کو ہٹا دیں گے لیکن ایسا نہیں ہونے والا ہے۔









