نئی دہلی:(ایجنسی)
این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے بدھ 29 دسمبر کو کہا کہ جب یو پی اے کی سرکار مرکز میں تھی اوراس وقت کےگجرات کے وزیر اعلیٰ مودی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو لے کر حملہ تھے، توکئی لیڈر نریندرمودی کےخلاف ایکشن چاہتے تھے،لیکن وہ اورمنموہن سنگھ اس کے حق میںنہیں تھے ۔
شرد پوار ایک کتاب کے اجرا کی تقریب کے دوران لوک ستا کے ایڈیٹر گریش کبیر سے اپنے سیاسی اور سماجی سفر کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بی جے پی 2019 کے مہاراشٹر انتخابات کے بعد ان کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی خواہشمند تھی۔
این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا کہ اس وقت کی یو پی اے حکومت کےکچھ کابینہ ساتھی اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ مودی کے خلاف تھے، جب وہ اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ’’انتقام کی سیاست‘‘ نہیں چاہتے تھے۔
انہوںنے کہاکہ ’’یہ جزوی طور پر سچ ہے کہ منموہن سنگھ اور میں ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے خلاف انتقامی سیاست میں ملوث ہونے کے خلاف تھے، حالانکہ کچھ کابینہ کے ساتھیوں نے اس طرح کی کارروائی کی حمایت کی تھی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مودی اس وقت منموہن سنگھ حکومت کے سخت ناقد تھے۔ اس سے دہلی اور گجرات کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔ میرے علاوہ کوئی ایسا نہیں تھا جو مودی سے بات کرنے کو تیار تھا۔ منموہن سنگھ نے میری بات مان لی کہ ہمیں سیاسی اختلافات کو ریاست کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیے۔
میں نے جان بوجھ کر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی بات کی تھی: پوار
شرد پوار نے کہا کہ بی جے پی نے 2019 کے مہاراشٹر انتخابات کے بعد این سی پی کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی تھی، کیونکہ اس وقت ان کی پارٹی اور کانگریس کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے۔
بی جے پی اور شیو سینا نے ان انتخابات کوساتھ لڑا تھا، لیکن سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری، لیکن حکومت نہیں بنا سکی کیونکہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر شیو سینا کے ساتھ ان کا اتحاد ٹوٹ گیاتھا۔
ریاستی انتخابات کے بعد کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ انہوں نے ایک بیان دیا تھا کہ این سی پی سنجیدگی سے بی جے پی کی حمایت کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سے شاید شیوسینا کے ذہن میں شکوک پیدا ہوئے، جس کے بعد انہوں نے کانگریس اور این سی پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا۔
یوپی انتخابات میںمعاملہ 50-50، کسی ایک پارٹی کو اکثریت مشکل: پوار
یوپی میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے بارے میں پوار نے کہا، یہ50-50 ہے۔ …کسی ایک پارٹی کی حکومت بنتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ وزیر اعظم جس طرح سے اترپردیش گئے اور کئی پروجیکٹوں کا اعلان کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی (بی جے پی) نے ریاست کی صورت حال کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
پوار کے مطابق، یوپی اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں کے انتخابی فیصلے قومی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’مودی نے وارانسی سے لوک سبھا الیکشن لڑ کر صحیح کام کیا… ان کے فیصلے کی وجہ سے اتر پردیش کے لوگ ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے… میں نے 14 الیکشن لڑے، جن میں سے سات لوک سبھا الیکشن تھے، لیکن میں نے کبھی یہاں سے الیکشن لڑنے کا نہیں سوچا تھا۔‘‘
میں آج بھی نہرو کے نظریے کا حامی ہوں: پوار
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں 1999 سے پہلے ایم سی پی تشکیل دینی چاہیے تھی، پوار نے کہا، ’اگرچہ میرے پریوار کا سیاسی جھکاؤ بائیں بازو سے تھا، لیکن میں گاندھی، نہرو اور یشونت راؤ چوہان کے نظریے سے متاثر تھا۔ مجھے چھ سال کے لیے معطل کردیاتھا،کیونکہ میں پارٹی کی میٹنگ میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد مجھے اپنے حامیوں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا، لیکن میں نے گاندھی، نہرو اور یشونت راؤ چوہان کے نظریے کو کبھی نہیں چھوڑا۔‘‘










