تحریر:نتن سلطانے
رائے پور کی دھرم سنسد میں مہاتما گاندھی کو گالی دینے والے کالی چرن مہاراج کورائے پور پولیس نے گرفتار کر لیا۔ کالی چرن کو مدھیہ پردیش سے گرفتار کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے کہ اس ماہ 17 سے 19 دسمبر تک ہری دوار میں منعقد دھرم سنسد میں متنازع بیانات سے جڑا تنازع ختم ہو پاتا، رائے پور میں منعقد دھرم سنسد نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔
چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں منعقدہ دھرم سنسد کا ایک ویڈیو وائرل ہوا، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اکولا کے کالی چرن مہاراج مہاتما گاندھی کو گالی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالی چرن مہاراج مہاتما گاندھی کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کر رہے ہیں اور ناتھو رام گوڈسے کی تعریف کر رہے ہیں، جس نے انھیں قتل کیا تھا۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ دھرم سنسد کے اندر کچھ لوگ ان کی تقریر پر تالیاں بھی بجا رہے ہیں۔
رائے پور میونسپل کارپوریشن کے اسپیکر اور کانگریس لیڈر پرمود دوبے کی شکایت پر مقامی پولیس نے کالی چرن مہاراج کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

کالی چرن مہاراج کون ہیں؟
کالی چرن مہاراج سب سے پہلے اس وقت روشنی میں آئے تھے جب شیو تانڈو پر ان کا بھجن سوشل میڈیا پر وائرل ہواتھا۔ ان کا اصل نام ابھیجیت سارگ ہے۔
وہ اصل میں مہاراشٹر کے اکولا ضلع کے رہنے والے ہیں اور شیواجی نگر کے بھوسر پنچ بنگلہ علاقے میں رہتے ہیں۔ مقامی صحافی امیش اکیلا کے مطابق ان کا بچپن اکولا میں ہی گزرا ہے۔
کالی چرن مہاراج کی تعلیم کے بارے میں قابل اعتماد اور بالکل درست معلومات نہیں مل سکی ہیں، لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ کالی چرن مہاراج اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں معلومات دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
تاہم، اپنے ایک انٹرویو میں کالی چرن مہاراج نے کہا، ’میں نے کبھی اسکول جانا پسند نہیں کیا۔ مجھے اپنی پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لیے سب میری بات سنتے تھے۔ مجھے مذہب میں دلچسپی پیدا ہوئی اور میں روحانیت کی طرف متوجہ ہوگیا۔‘

بلدیاتی انتخابات میں ہار گئے
کالی چرن مہاراج اپنی جوانی میں اندور چلے گئے تھے۔ وہ مذہبی رسومات میں حصہ لینے لگے تھے۔
مقامی صحافی امیش اکیلا بتاتے ہیں، ’کالی چرن مہاراج 2017 میں اکولا واپس آئے اور میونسپل انتخابات میں قسمت آزمائی اورانہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔‘
ویسے، ابھیجیت سارگ کے کالی چرن میں بدلنے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ دیوی کالی نے نہ صرف انہیں درشن دیے بالکہ انہیں ایک حادثہ سےبچایا۔ اس دعوے کے حوالے سے انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک حادثے میں میری ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں۔ میری ٹانگیں 90 ڈگری سے زیادہ جھکی ہوئی تھیں اور دونوں ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ لیکن کالی ماں نے مجھے درشن دیےاور انہوںنے میری ٹانگوں کو پکڑ کرکھینچا اوراسی وقت میرےپیر ٹھیک ہوگئے۔‘
’یہ ایک شدید حادثہ تھا لیکن مجھے سرجری نہیں کرنی پڑی، مجھے اپنی ٹانگ میں چھڑی نہیں ڈالنی پڑی۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ میں کالی ماں کو دیکھ سکتا تھا اور اس کے بعد میں ان کا پرجوش عقیدت مند بن گیا۔‘
کالی چرن مہاراج کہتے ہیں، ’میری دادی کہتی تھیں کہ میں رات کو بھی کالی ماں کے نام کا جاپ کرتا تھا۔ میں نے کالی ماں کی پوجا شروع کی اورمیری دھرم میں دلچسپی شروع ہوئی اورتب سے میںکالی ماں کا بیٹا بن گیا۔‘
ویسے، کالی چرن مہاراج اپنے گرو کا نام مہارشی آگستیہ بتاتے ہیں۔
کالی چرن مہاراج کا دعویٰ ہے کہ ان کی ملاقات مہارشی آگستیہ سے اس وقت ہوئی جب وہ 15 سال کی عمر میں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہارشی آگستیہ نے انہیں لال کپڑے پہننے کو کہا تھا لیکن وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ رشی نہیں ہیں۔
کالی چرن مہاراج کہتے ہیں، ’رشی مونی کوئی میک اپ نہیں کرتےہیں، لیکن مجھے اچھے دلکش ڈیزائن والے کپڑے پسند ہیں۔ میں کمکم بھی لگاتاہوں، میں داڑھی بناتا ہوں اس لئے میںخود کو رشی مونی نہیںکہہ سکتا۔‘

جب ویڈیو وائرل ہوئی
کالی چرن پچھلے سال اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب جون 2020 میں ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ اس ویڈیو میں وہ شیو تانڈو سٹوترا کا پاٹھ کرتے ہوئے نظر آئے تھے۔ کچھ دن پہلے کالی چرن مہاراج نے بھی کورونا وائرس کو لے کر عجیب و غریب بیان دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ایک فراڈ ادارہ ہے اور اس کے ڈاکٹر اور ماہرین بھی فراڈ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ عالمی ادارہ صحت ویکسین کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے لوگوں کو ڈرا رہا ہے تاکہ ویکسین کی فروخت میں اضافہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مرنے والے کووڈ مریضوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتیں، ایسی صورت میں ان کے گردے اور آنکھیں وغیرہ نکال لی جاتی ہوںگی ۔ تاہم، کالی چرن مہاراج اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔
کیا کالی چرن مہاراج کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی؟
مہاتما گاندھی پر ان کے متنازع بیان کے بعد، کالی چرن مہاراج کے خلاف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور مہاراشٹر حکومت میں کانگریس کے وزراء نے کالی چرن مہاراج کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر کئی صارفین سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا چھتیس گڑھ میں اکثریت والی کانگریس حکومت کالی چرن کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی؟
فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے ٹویٹ کیا، ’کیا کالی چرن کو گرفتار کر لیا جائے گا یا ہری دوار کی طرح یہاں کچھ نہیں ہوگا۔‘
وہیں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کہا کہ ‘باپو کو گالی دے کر اور سماج میں زہر پھیلانے سے اگر کوئی پاکھنڈی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہو جائے گا تو یہ اس کا وہم ہے۔‘
(بشکریہ: بی بی ہندی)










