نئی دہلی :(ایجنسی)
دنیا کے معروف مفکر نوم چومسکی نے بھارت میں مبینہ اسلامو فوبیا میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی حکومت پر بھارت کی سیکولر جمہوریت کو تباہ کرنے کا الزام لگایا۔
بی بی سی ہندی کی ایک رپورٹ کے مطابق پروفیسر نوم چومسکی نے یہ تبصرہ’ بھارت میں نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کے حوالے سے بگڑتی ہوئی صورتحال‘ پر خصوصی گفتگو کے دوران کئے۔
بھارت میں فرقہ واریت کے مسئلہ پر امریکی تارکین وطن تنظیموں نے ایک ماہ میں تیسری بار اس مباحثے کا اہتمام کیاتھا۔
انہوں نے کہا، ’’اسلام فوبیا کا اثر پورے مغرب میں بڑھ رہا ہے۔ یہ بھارت میں اپنی مہلک ترین شکل اختیار کر رہا ہے، جہاں نریندر مودی کی حکومت منظم طریقے سے بھارتی سیکولر جمہوریت کو تباہ کر رہی ہے اور ہندو راشٹر بنا رہی ہے۔ یہ آزاد افکار اور مسلمانوں کے خلاف نظام تعلیم پر حملے کی شکل میں دوسری شکلیں بھی لے رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’کشمیر میں مظالم کی ایک تاریخ ہے لیکن مودی کی دائیں بازو اور قوم پرست حکومت میں یہ مظالم بڑھ گئے ہیں۔‘
پروفیسر چومسکی نے کہا، ’جنوبی ایشیا کی صورتحال خاصی افسوسناک ہے۔ پاکستان میں بھی۔ نہ صرف اس لئے کہ کیا ہو رہاہے بلکہ اس لئے بھی کیا نہیںہو رہاہے۔ اس خوفناک تباہی سے بچنے کے لیے کچھ ممکنہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ یہ صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی بڑی ذمہ داری مغرب میں امیر ممالک کی بھی ہے ۔‘
نوم چومسکی کو اس بحث میں شامل ہونا تھا لیکن انہوں نے ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے اپنا پیغام بھیجا تھا۔
نوم چومسکی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک معروف مفکر اور ایمریٹس ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے پروفیسر نوم چومسکی کو امریکہ کے بائیں بازو کے سیاسی کیمپ میں ایک سرکردہ دانشور کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم وہ خود اس کی تردید کرتے ہیں۔ وہ خود کو سماج وادی مانتے ہیں ۔










