تحریر:جومی این راؤ
یہ بالکل واضح ہے کہ اس تنازع کی شروعات راتوں رات کچھ خواتین کے جنونی ہوجانے اور حجاب پہننا کرنے سے نہیں ہوئی ہے۔ بلکہ اس کی ذمہ دار ہندو دائیں بازو کی تنظیموں کا وہ قدم ہے جس میں انہوں نے اس معاملے کو اتنا متنازع بنانے کا فیصلہ کیا۔ اور اب حالات ایسے ہیں کہ پورے کرناٹک میں یہ معاملہ بے قابو ہونے کا خطرہ بنا ہواہے۔
جہاں یہ معاملہ لارجر بنچ کو سونپا گیا ہے وہیں دوسری جانب کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے تعلیمی اداروں کو آئندہ چند روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ مدھیہ پردیش کے وزیر تعلیم نے آنےوالے وقتوںمیں ریاست میں حجاب پر پابندی لگانے کی بات کی ہے، لیکن بات یہاں تک کیسے پہنچی؟ اور اس سے کیسے نمٹا جائے؟ کیا عدالتیں اس معاملے کو نمٹانے کے لیے صحیح جگہ ہیں یا اب وقت آگیا ہے کہ پولیٹکل ایگزیکٹیو اس معاملے کو اپنے ہاتھوں میں لےلے؟
پچھلے کچھ دنوں سے، لڑکیوں اور خواتین کو اسکول اور کالج کے حکام کے اس دعوے کی وجہ سے کلاسوں سے باہر رکھا جا رہا ہے کہ ان کے ذریعہ حجاب پہننا ڈریس سے متعلق قوانین کے خلاف ہے۔ دوسری جانب ہندو طلبہ نے حجاب بین کی حمایت میں بھگوا گمچھا پہن کرآنا شروع کردیا ہے۔ ایک وائرل ویڈیو میں بھگوا پہنے مردوں کاایک جھنڈ اپنا اسکوٹر پارک کرکےتیزی سے کالج بلڈنگ کی جانب جاتی ہوئی حجاب میں ملبوس لڑکی کا پیچھا کرتے اوراسے پریشان کرتےہوئے نظر آرہاہے ۔ بعد میں این ڈی ٹی وی سےہوئی بات چیت کےدوران اس لڑکی نے بتایاکہ اسے ہراساں کرنے والے جھنڈکے زیادہ لوگ اسے انجان ہی لگے۔ جنہیں اس نے پہلے کبھی اپنے کالج میں نہیں دیکھا تھا۔
سطحی طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ اسکول کالج کے قواعد اور ڈریس کوڈ کا معاملہ ہے۔ مسلم خواتین کے لباس کی خواہشات پر ہندوشدت پسند کا اس قدر توجہ دینا، دراصل مسلمانوں کو انہی طےشدہ جگہوںتک محدود رکھنے کی کوشش ہے جو ہندو دائیں بازو کے قواعد کی کتاب میں بیان کی گئی ہیں۔یہ ایک ایسی پالیسی ہے جو کافی انتخابی فوائد بھی دیتی ہے۔
مظفر نگر فسادات، گجرات قتل عام، شہریت (ترمیمی) ایکٹ، تین طلاق قانون، گائے کے گوشت پر پابندی، ان سب کا مرکز مسلمانوں اور ان کے حقوق پر حملہ کرنے کی کوشش تھی۔ اگرایک بار ہم اس شروعاتی نقطہ کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر اس حالیہ تنازع کے تئیں ہماری سمجھ کچھ حد تک واضح ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔
کیا حجاب ایک ضروری مذہبی رسم ہے؟ کیا اس معاملہ کومذہبی نصوص کی روشنی میں منصفانہ طور پر طے کیا جا سکتا ہے؟ ایسے میں ہمارے ملک کو اس بحث سے گریز کرنا چاہیے۔
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اور میں حجاب کو اسلام کی علامت سمجھتے ہیں یا نہیں۔ اس سے متعلق حقائق بھی بہت سیدھے اور سپاٹ ہیں۔ ہندوستان میں حجاب پہننے والی خواتین بھی مسلمان ہیں اور اس کو نہ پہننے کا فیصلہ لینے والی بھی صرف مسلمان عورتیں ہی ہیں، ان دونوں ہی معاملوں میں ،ایسے بھی کچھ مثالیں ہیں جب سماجی دباؤ بھی کچھ حد تک ایک عنصر رہاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی، ثقافتی اور سماجی و اقتصادی جیسے عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم ہندوستان میں شاید ہی کوئی ایسی عورت ہو گی جو زندگی کے ایک یا زیادہ شعبوں میں اس طرح کے دباؤ سے آزاد ہو۔ ایسا کیوں ہے کہ کبھی کسی سکھ آدمی سے کوئی نہیں پوچھتا کہ اس نے پگڑی کیوں پہنی ہے یا نہیں؟ کیونکہ ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ بطور آدمی یہ ہمیشہ اس کی اپنی مرضی کا معاملہ ہوتا ہے۔
کیا کسی اسکول یا کالج یا حکومت کو طلباء کے لیے ایک خاص قسم کا ڈریس کوڈ طے کرنا چاہیے؟ اس کا جواب ہاں ، بھی ہے اورنا بھی ہے ۔اگر واقعی ان تعلیمی اداروں کوسماج کے لیے کارآمد رہنا ہے تو ڈریس کوڈ، الگ الگ طرح کے قواعد وضوابط اورگائڈلائنس کو اس سے جڑےتمام فریقین کی رضامندی اوربحث کے بعدہی لاگو کرنا چاہئے۔ سب سے پہلے ہمیں سب سے ضروری اور سب سے بنیادی اصول پر بات کرنی چاہئے کہ آخر کیوں کسی اسکول کے طلباء کے لیے ایک طے شدہ ڈریس ہونی چاہئے۔ مساوات عملی احساس پر مبنی اس کاایک جواب تویہ بنتا ہے کہ اسکول جو بھی طے کرے اس کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد تمام کے لیے ایک اعلیٰ معیار کی تعلیم کو یقینی کرنا ہے ۔
رضامندی پر مبنی ڈریس کوڈ کی سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ اس سے اسکول کے بچوں میں کچھ حد تک ایک برابری آئے گی اور فیشن کی ہوڑ کے ساتھ ہی غریب غریب والدین کے خرچ کو بڑھانے سے روکنا آسان ہو جائےگا۔ کالجوں کے معاملوں میں یہ دلیل بہت کمزور پڑ جاتاہے ۔ دنیا بھر میں زیادہ پوسٹ 16-کالج اور اعلیٰ تعلیمی اداروں، ڈریس کوڈ کے اصولوں سے خاصے دور ہو چکے ہیں اور پوری طرح ایک موٹی – موٹی گائڈ لائنس کی بنیاد پر اس مسئلہ سے نمٹتے ہیں جس سے کہ کچھ حد تک ہی صحیح لیکن سمجھ داری بھرے اور شائستہ لباس پہننا یقینی بنائیں۔ ہندوستان جیسے قدامت پسند اور بدسلوکی والے معاشرے والے ملک میں، طلباء کے ہاٹ پینٹس ،کراپس یا اسپورٹس براز پہننے کا امکان کم ہوتاہے ۔
اگر کالج کے افسران یا حکومت میں شامل افراد کسی وسیع تر تعلیمی مقصد کے لیے بغیر کسی مشاورت کے ایک انتہائی سخت اور انتہائی باریک بیان کردہ ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو وہ احتجاج کا خطرہ بھی مول لیں گے۔ اگر وہ اس سے متعلق کوئی ہدایت نامہ جاری کرنے کا خطرہ مول لے رہے ہیں تو بہتریہی رہے گا کہ وہ گائڈلائن کے قواعد کو باریک سطح تک سخت نہ بناکر اس کو الگ الگ ثقافتوں کےفرق کو ذہن میں رکھتےہوئے اورکافی کچھ طلباء کی بہتر سمجھ پر چھوڑتے ہوئےایک موٹی- موٹی گائڈ لائنس بنائیں۔
کیا اس معاملہ کو عدالت پر چھوڑ دینا چاہئے؟ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ ایک اچھا خیال ہے۔
(بشکریہ نیوز لانڈری:یہ مضمون نگارکے ذاتی خیالات ہیں)










