گوہاٹی :
آسام کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر پیر کو ہیمنت بسواسرما نے حلف لیا۔ مسلسل دوسری بار اقتدار میں آئی بی جے پی نے اس بار اپنا سی ایم بدل دیا اور سربانند سونووال کی جگہ ہیمنت بسوا سرما کو موقع دیا ۔ منگل کو نئی سرکار کی پہلی کابینی میٹنگ ہونی ہے۔
لیکن حلف لینے کے بعد پیر کو ہیمنت بسوا سرما نے بڑااعلان کردیا ہے۔ ہمینت نے کہاکہ ان کی سرکار انتخاب میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرے گی ، جس میں’لو جہاد – لینڈ جہاد‘ کے خلاف قانون لانے کی بات بھی شامل ہے۔
حلف اٹھانے کے بعد ہیمنت بسوا سرما نے این آر سی کے بارے میں ایک بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سرحدی اضلاع میں 20 فیصد اور دوسرے اضلاع میں 10 فیصد ری- ویری فکیشن کے حق میں ہے اور اس کی مانگ کرے گی۔
آسام میں کورونا بحران کے بارے میں ہیمنت بسوا سرما نے کہاکہ حالات بگڑ رہے ہیں ، یومیہ نئے کیس کی تعداد پانچ ہزار تک پہنچ گئی ہے، پہلی کابینی میٹنگ میں کووڈ بحران پر بحث ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ آسام انتخابات میں سی اے اے ، این آر سی ایک بڑا مسئلہ بن گیا تھا، جہاں بی جے پی نے دراندازوں کو باہر نکالنے کی بات کہی تھی ، تو وہیں کانگریس نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کی حکومت بنے گی تو سی اے اے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ تاہم آسام میں ایک بار پھر بی جے پی کی حکومت بن گئی ہے ۔
آسام میں انتخابی نتائج کے بعد ایک ہفتہ تک وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے بی جے پی میں رسہ کشی جاری رہا، لیکن اتوار کے روز ہیمت بسوا سرما کے نام پر مہر لگ گئی ، پیر کو انہوں نے اپنی کابینہ کے ہمراہ حلف لیا۔ حلف برداری تقریب میں شرکت کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا خود پہنچے تھے۔








