نئی دہلی:
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہاکہ بھارت میں کووڈ 19-کے معاملوں میں اضافہ کے لیے کئی ممکنہ سرگرمیاں ذمہ دار ہیں، جن میں مذہبی اور سیاسی پروگراموں میں جمع ہوئی بھیڑ بھی شامل ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے گزشتہ روز شائع ہونے والی اپنی ہفتہ وارکووڈ 19-اپ ڈیٹ میں کہاکہ کورونا کے B.1.617ویئراینٹ کا سب سے پہلا معاملہ اکتوبر 2020 میں سامنے آیا تھا ، اس کے مطابق بھارت میں کووڈ 19-کے بڑھتے معاملوں اور اموات نے وائرس کے B.1.617ویئراینٹ سمیت باقی اقسام کی ممکنہ رول کو لے کر سوال کھڑے کئے ہیں۔
اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی صورتحال کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کے ایک حالیہ رسک اسسمنٹ پایا گیا ہے کہ ملک میں کووڈ 19-کے معاملوں میں ’اضافے اوراز سرنو بحال ہونا ‘ کے بہت سارے ممکنہ عوامل ذمہ دار ہیں ، بشمول سارس-کو -2 کے متعدد اقسام کا پھیلاؤ بھی ممکنہ رول ادا کیا ہے۔ اسی طرح کئی ’’مذہبی اور سیاسی پروگراموں میں جمع ہوئی بھاری بھیڑ کے سبب سماجی طور پر لوگوں کامیل جول بڑھا ‘‘
اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے ہر ایک عنصر ہندوستان میں وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کے لئے کس قدر ذمہ دار تھا ، ابھی تک اسے زیادہ اچھی طرح سے سمجھا نہیں جا سکا ہے۔








