استنبول:
فلسطینیوں اور اسرائیل کے مابین خونی تصادم دوسرے ہفتے بھی جاری ہے۔ اسرائیلی کی جانب سےے فلسطینیوں پر مظالم و شہریوں پر فضائی بمباری کی جارہی ہے تو حماس کی طرف سے راکٹ داغے جارہے ہیں ۔ دینا کے مسلم ممالک فلسطینیوں پر اسرائیل کے حملے کو روکنے اور جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں کر رہے ہیں۔ ان سب کے درمیان ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل کی حمایت کرنے پرامریکہ پر نشانہ سادھاہے اور کہاہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کے ’ہاتھ خون‘ سے سنے ہیں۔
دراصل اردگان نے جنوری میں امریکی صدر کے عہدے کا اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی جو بائیڈن پر سب سے سخت ریمارکس دیئے تھے۔ اردگان نے گزشتہ چند مہینوں میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور ایک سال تلخ تنازعات کے بعد دوسرے مغربی اتحادیوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے، لیکن اردگان نے فلسطین پر فضائی حملوں کے دوران اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے کی اطلاعات پر یہ سخت تبصرہ کیا۔
اردگان نے اس میڈیا رپورٹ پر جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ 735 ملین ڈالر مالیت کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پیر کو امریکی صدر جوبائیڈن کو نشانہ بناتے ہوئے اردگان نے کہا کہ آپ اپنے خونی ہاتھوں سے تاریخ لکھ رہے ہیں۔ آپ ہمیں یہ کہنے پر مجبور کررہے ہیں کیونکہ ہم اس پر خاموش نہیں رہنے والے ہیں۔‘

اردگان نے فلسطین کے مسئلے کو اہم طور پر اٹھانے کے کے سبب پورے مشرق وسطیٰ میں حمایت حاصل کی ہے ۔ یروشلم میں الاقصیٰ مسجد پر فلسطینیوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیا تھا اور دنیا کے ممالک کو فلسطینی کے حق میں متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔
اردگان نے پیر کو جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسلحہ کی نئی کھیپ کی اجازت کی امریکی میڈیا رپورٹ کے حوالہ سے کہاکہ ’ آج ہم نے اسرائیل کو اسلحوںکے فروخت پر بائیڈن کے دستخط دیکھیں۔ ‘ اردگان نے بائیڈن سے کہاکہ فلسطینی علاقے کئی دیگر علاقوں کی طرح ظلم و اذیت اور خون سے لت پت ہے۔ جنہوں نے عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد امن سے محروم ہو گئے ہیں اور آپ اس کی حمات کررہے ہیں۔‘
اسلحہ بیچنے کی منظوری سے قبل جو بائیڈن نے حماس کے راکٹ حملوں کے خلاف اسرائیل کے خودکی دفاع کی بات کہی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ نے کئی افسران بھی یہ بات دہراچکے ہیں کہ اسرائیل کو دفاع کا حق ہے۔امریکہ کے اس بیان پر ترکی سخت رد عمل کااظہار کرچکا ہے۔
ترکی کے مواصلات کے ڈائریکٹر فرحتین التون نے کہا تھا کہ ‘عام شہریوں کا قتل عام ، فلسطینیوں کواپنے گھروں کو چھوڑنے اور ان کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے مجبور کرنا ، مساجد پر حملہ کرنا ، معصوم بچوں کا قتل کرنا، کب سے ان تمام مظالم کو دفاع مانے جانے لگا ہے؟ انہوں نے کہاکہ کیا امریکہ کے پاس ان قتل عام اور دہشت گردی کی کارروائیوں پر کوئی رد عمل نہیں ہے۔
اردگان نے اسرائیل کو اسلحہ بیچنے کے بعد بائیڈن پر یہ سخت تبصرہ تب کیا جب امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کو بیان جاری کرنے میں ایک بار پھر رکاوٹ پیدا کردی۔امریکہ نے ایک ہفتہ میں تیسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسرائیل – فلسطین تنازع پر مشترکہ بیان جاری کرنے سے روک دیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اتوار کو ہوئی ایمرجنسی میٹنگ کے بعد ناروے، تیونس اور چین نے بیان پیش کیا جس میں دونوں طرف سے جنگ بندی کی مانگ کی گئی تھی۔ لیکن امریکہ نے اسے جاری نہیں ہونے دیا۔

حالانکہ ترکی کے صدر اردگان نے فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے متعدد اسلامی ممالک کے سربراہوں سے بات کی ہے۔ انہوں نے ملیشیا ، اردن ، کویت کی اقوام عالم کے سربراہوں اور حماس کے سیاسی سربراہ سے اس معاملے پر بات کی ہے۔ ترک صدر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اردگان نے حماس کے پولیٹکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہانیہ سے بھی بات کی۔ اردگان نے ایران کے صدر حسن روحانی سے بھی فلسطین کے بارے میں فون پر بات کی ہے۔










