نئی دہلی :
کیا بی جے پی کورونا کے معاملے پر کانگریس کو گھیرنے چاہتی ہے اور یہ تشہیر کرنا چاہتی ہے کہ کانگریس نے کمبھ کو ’ سپر اسپریڈر ‘ کہہ کر سماج کو بانٹنے کی کوشش کی ہے؟ کیا بی جے پی اسی بہانے کورونا کے مسئلہ پر بھی ہندو- مسلم پولرائز کرنے کی کوشش میں ہے ؟
یہ سوال اس لئے اٹھ رہا ہے کہ بی جے پی نے کہا ہے کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کمبھ کو کورونا کا’ ‘سپر اسپریڈر‘ کہا ہے اور پارٹی کارکنوں کو ایسا کہہ کر اس کی تشہیر کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس نے ملک، حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بدنام کرنے کے لئے ٹول کٹ کا سہارا لیا ہے اور کورونا کےنئے ویریئنٹ کو مودی اسٹرین کہہ کر عام کیا ہے۔
کانگریس نے بی جے پی پر پلٹ وار کرتے ہوئے اسے ’فیک‘ قرار دیا ہے اور کہاہے کہ اس نے ایسا کوئی ٹول کٹ نہیں بنایا ہے ۔
بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے ٹویٹ کیا کہ کانگریس نے اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ ’مودی اسٹرین‘ یا ’انڈین اسٹرین‘ کہہ کر کورونا کے نئے اسٹرین کو عام کریں۔ پاترا نے یہ بھی کہا ہے کہ کوروناکے دوران لوگوں کی مدد کرنے کا کانگریس کای دعویٰ دکھاوا اور کچھ صحافیوں کے ساتھ مل کر تشہیر ہے ۔ پاترا نے یہ بھی کہا کہ کانگریس قائد راہل گاندھی نے کمبھ میلے کو کورونا کا’’سپر اسپریڈر‘ کہا ہے۔
بی جے پی کے قومی صدر جے جے پی نڈا نے کہا ہے کہ کانگریس سماج کو بانٹ رہی ہے اور اس معاملے میں استاد ہے۔مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے کہا ہے کہ کانگریس موت پر سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے ، یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ وہ اس سطح پر آسکتی ہے۔








