نئی دہلی :
’انڈین فرینڈس فار فلسطین‘ کے بینرتلے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت پر ہندوستان کے عوام کارخ واضح کرنے کے لیے نئی دہلی میں آن لائن پریس کانفرنس ہوئی جس میں ملک کی سرکردہ مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں ، مختلف مذاہب کے دھرم گروؤں اور فلسطینی کاز کے سرگرم لیڈرموجودتھے ۔ اس میں ہندوستان ہی نہیں بیرون ملک کے اخباری نمائندوں نے بھی حصہ لیا ۔ بعدازاں ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حکومت ہند سے امید کی کہ وہ فلسطین پر اسرائیلی مظالم ختم کرنے میں موثر اور کلیدی رول ادا کرے گی۔
بیان میں عرب ومسلم ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متحد ہو کر مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے آگے آئیں اور سرگرم سفارتی رابطوں کے ذریعہ اسرائیل کو جارحیت سے باز آنے پر مجبور کریں۔ صحافی برادری سےاپیل کی کہ وہ بربریت کے خلاف یک زبان ہو کر آواز اٹھائیں ۔ پریس کانفرنس کے شرکاء نے تفصیل کے ساتھ موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی اور اسرائیلی وحماس کو ایک پلڑے میں رکھے جانے کے رویہ پر شدید نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہاکہ جارحیت کی تمام ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے ، جس نے نہتے شہریوں ، بچوں اور عوتوں کو بموں کانشانہ بنا رہا ہے۔ اس نے اسکولوں ،اسپتالوں یہاں تک کہ میڈیا کو بھی نہیں بخشا ۔ انہوں نے سوال کیاکہ گھروں سے بے دخل کردیے جانے والوں کو احتجاج کا بھی حق نہیں ۔ فلسطینیوں کے بیشتر احتجاجات و انتفاضات کا سبب مسئلہ فلسطین کا یہی پہلو ہے۔
کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے سابق ممبر پارلیمنٹ اور ایگزیکٹیو کمیٹی آف پارلیمنٹرینس کے ممبر کے سی تیاگی نے کہا کہ ہمیں اس مسئلے کو مذہبی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے دیکھنا چاہئے۔یروشلم میں موجودہ تنازعہ اور فلسطینی مظاہرے اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہیں۔ موجودہ بد امنی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی حکومت نے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد اقصی کے قریب شیخ جرح اور دیگر محلوں میں مقیم فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا۔ہم سلامتی کونسل میں ہندوستان کے نمائندے ٹی ایس تیر مورتی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ ’’ ہندوستان فلسطین کاز کی مکمل حمایت کرتا ہے‘‘۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قائم مقام سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جو اس کانفرنس کے کنوینر بھی تھے ،نے کہاکہ مسجد اقصیٰ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک مقدس مقام ہے اور اس کے ساتھ ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں۔القدس شہر دنیا کے تین بڑے مذاہب کے لئے اہم ہیں۔اس لئے اسرائیل کو شہر، اس کے ڈھانچے یا حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ دنیا کے تمام انصاف پسند ممالک کو نہ صرف اس صریح جارحیت کی مذمت کرنی چاہئے بلکہ غیر قانونی عمل کے خلاف وہ تمام اقدامات بھی کرنے چاہئے جن کا حق اقوام متحدہ کے چارٹر نے انہیں دیا ہے ۔ انہیں اسرائیل پر دبائو ڈالنا چاہئے اور اس کے خلاف سخت اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کرنا چاہئے۔اسرائیل کے صہیونی حکمرانوں اور فوجیوں پر غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوںمیں مظالم کے الزام میں بین الاقوامی عدالت میں جنگی جرائم کے الزام میں فرد جرم عائد کی جانی چاہئے۔
سابق پارلیمنٹرین اور جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ’’ انڈین فرینڈس فار فلسطین‘‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ فلسطین کے بیشتر مظاہروں اور انتفاضہ کی بنیادی وجہ اسرائیل کے ذریعہ غزہ پر حملہ ہے۔اسرائیل اقوام متحدہ کی متعدد قرر دادوں اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے،یہاں تک کہ دو طرفہ معاہدوں میں بھی اسرائیل اپنے وعدوں پر پیچھے ہٹنے کی تاریخ رکھتا ہے۔اسرائیل کا سیاسی طبقہ اور اس کے حکمراں وقتاً فوقتاً اپنے سیاسی مفاد کے لئے اپنی جارحیت میں شدت اختیار کرتے رہتے ہیں۔
معروف اسلامی اسکالر اور عالم دین مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ اسرائیل اپنی گھنائونی حرکتوں کو دنیا سے چھپا رہا ہے اور یکطرفہ طور پر فلسطینی مزاحمتی کارروائیوں کو دنیا کے سامنے عام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔دنیا کو حقائق سے بے خبر رکھنے کے لئے جس طرح سے صحافیوں کو نشانہ بنایا جارہاہے اور ان کے دفاتر مسمار کئے جارہے ہیں وہ پوری دنیا کے لئے سنگین چیلنج ہے۔میں عرب دنیا سمیت تمام انصاف پسند ممالک سے مطالبہ کرتا ہوںکہ جلد سے جلد اس بحران کے حل کے لئے آگے آئیں۔
آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ اس مسئلے کا فوری حل یہ ہے کہ القدس اور دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کا تیزی سے خاتمہ کیا جائے اور اسرائیل کو اس کے تمام ظالمانہ اور جارحانہ ارادوں اور اقدامات کو روکنے پرمجبور کیا جائے۔اقوام متحدہ کو اسرائیل کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تمام بین الاقوامی معاہدوں کے خلاف اور پوری دنیا کے خلاف جنگی جرائم کے مترادف اسرائیل کے اقدامات غیر قانونی ہیں۔
دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے کہا کہ وہ اس گروپ کے اٹھائے گئے موقف کی حمایت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کو انصاف ملے گا اور اسرائیل کے غیر قانونی قبضے سے فلسطین آزاد ہوگا۔
آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے دیگر افراد میں مہارشی گوسوامی سوشیل جی مہاراج، ڈاکٹر ایم ڈی تھامس ، پریس کلب آف انڈیا کے سکریٹری جنرل ونے کمار ، سینئر صحافی سنتوش بھارتیہ و تبصرہ نگار شامل تھے۔ اس مشترکہ بیان پر ستخط کرنے والوں میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، قائم مقام جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، کے سی تیاگی، ممبر برائے ایگزیکٹیو کمیٹی آف پارلیمنٹرینس فار القدس، مہاراشی بھاریگو پیتھادھیشور گوسوامی سشیل جی مہاراج، نیشنل کنوینر آف بھارتیہ سرو دھرم سنسد ، ڈاکٹر ایم ڈی تھامس ، فائونڈر ڈائریکٹر آف انسٹی ٹیوٹ آف ہارمونی اینڈ پیس اسٹڈیز نئی دہلی، سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیہ علماء ہند، مولانا محمد سفیان قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبند (وقف )، ڈاکٹر منظور عالم جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل ، مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی ، ڈائریکٹر امام شاہ ولی اللہ اکیڈمی ، ونے کمار سکریٹری جنرل برائے پریس کلب آف انڈیا ، سنتوش بھارتیہ سینئر صحافی۔








