ممبئی :
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلبا لیڈر شرجیل عثمانی کی مشکلات بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ مہاراشٹر پولیس نے عثمانی کے خلافمبینہ طور پر قابل اعتراض ٹویٹ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے ایک افسرنے جمعرات کو بتایا کہ جالنا کے امبیڑ رہائشی امبا داس امبھور نے الزام لگایا ہے کہ عثمانی نے ٹوئٹر پر کچھ پوسٹس کئے ہیں، جس میں بھگوان رام کے لیے قابل اعتراض الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ، جس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
اافسر نے بتایا کہ شکایت کی بنیاد پر امبیڑ پولیس نے بدھ کی رات عثمانی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295-A اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ امبھور کا تعلق ہندو جاگرن منچ سے ہے۔
امسال فروری میں مہاراشٹر کے پونے میں منعقد ایلگر پریشد کانفرنس میں عثمانی بھی شامل ہوئے تھے۔ کانفرنس میں عثمانی نے ایک خاص مذہب کو لے کر متنازع بیان دیا تھا، جس سے ریاستی کی سیاست گرم ہوگئی تھی۔ بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے شرجیل عثمانی کے خلاف ریاستی حکومت سے کارروائی کرنے کی مانگ کی تھی۔
اہم بات یہ ہے کہ وہ اتر پردیش کے اعظم گڑھ کا رہائشی ہے۔ ان کے والد طارق عثمانی علی گڑھ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ شرجیل عثمانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طلبا لیڈرتھے۔ وہ اس یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہا تھا ، لیکن 2018 میں اس نے تعلیم چھوڑ دی۔ دسمبر 2019 میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی بابری مسجد سے متعلق ایک تصویر پوسٹ کرکے عثمانی بحث میں آیا تھا۔ اس کے بعد وہ ملک بھر میں 2019 میں ہی سی اے اے کے خلاف جاری تحریک میں شامل ہونے لگا۔ عثمانی اترپردیش ، دہلی، مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں سی سی اے اور این آر سی کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوا اور سرکار سے قانون واپس لینے کی مانگ کی۔








