نئی دہلی :
اپنے بیانات سے سرخیوں میں رہنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے گزشتہ روز اناؤ واقعہ پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ یوگی حکومت نے ریاست میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلائی ہے۔ اویسی نے کہا ہے کہ اتر پردیش پولیس نے لاک ڈاؤن کے دوران سبزی فروخت کرنے پر سبزی فروش ’فیصل ‘ کو بے رحمی سے پٹائی کی جس کے اس کی موت ہوگئی ۔
نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا ،’اگر لڑکے کا نام فیصل نہیں ہوتا اور وہ ویویک تیواری جیسے ہندو نام والا ہندو ہوتا تو یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار متاثرہ پریوار سے معافی مانگتی اور مقتول کے اہل خانہ کو کو فوراً معاوضہ کی رقم جاری کرتی۔ انہوں نے کہاکہ ایسے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ اترپردیش سرکار نے ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا ئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اتر پردیش کی تقریباً56 فیصد پولیس کا ماننا ہے کہ مناسب جانچ ہونے سے پہلے ہی مسلمان مجرم ہوتےہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے تئیں یہ نفرت ریاست کے مسلم نوجوانوں کے تئیں یو پی پولیس میں جھلکتی ہے۔اویسی نے کہاکہ وہ اس قیادت کی مذمت کرتے ہیں اوریہ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اترپردیش میں بی جے پی سرکار پر ایک اور کالا دھبہ ہے ۔








