لکش دیپ:
دلکش دیپ میں ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کی پالیسیوں کی جم کر مخالفت کی جارہی ہے۔ اپوزیشن کے رہنما ان کے فیصلوں کی تنقید کررہے ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام ریاست لکش دیپ میں پانچ مہینے پہلے پٹیل کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا ہے، وہ گجرات کی نریندر مودی سرکار میں وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔دراصل لکش دیپ میں 90 فیصد مسلم آبادی ہے۔ اس کے باوجود یہاں بیف کی خرید وفروخت پر روک لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پرفل پٹیل کے پنچایت انتخاب میں دو بچوں سے زیادہ والے امیدواروں کو غیر مجاز قراگر دینے کے فیصلےکی بھی مخالفت کی گئی ہے ۔

پرفل پٹیل کے مسودوں میں غنڈہ ایکٹ بھی شامل ہے، حالانکہ لکش دیپ میں جرائم کی شرح بہت کم ہے ۔اس کے علاوہ لکش دیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ترمیم کرنے کی بھی بات کی گئی ہے۔ اس کے تحت ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے لیے اراضی الاٹمنٹ کیا جائے گا۔ مرکز کے زیر انتظام ریاست میں ممبر پارلیمنٹ محمد فیضل کا کہنا ہے کہ اس سے اتھارٹی کو مالکوں کے مفاد کو نظرانداز کرکے اراضی الاٹمنٹ کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایڈمنسٹریٹر یہاں عوام کے کاروباری مفادات کو فروغ دے رہے ہیں ،جبکہ قومی شاہراہ کے معیار کے مطابق سڑکیں بنانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔
مرکز کے زیر انتظام ریاست میں اتنی زیادہ مسلم آبادی ہونے کے وجہ سے بیف پر روک لگانے سے سماج میں بھی تناؤ بڑھ گیا ہے ۔ بتادیں کہ لکش دیپ میں سب سے کم شرح پیدائش ہے ، اس کے باوجود پنچایت انتخاب میں دو بچوں کا قانون لگائے جانے کی تیاری ہے۔جرائم سب سے کم ہونے کے باوجود غنڈہ ایکٹ میں ترمیم کی تجویز ہے ۔
لکش دیپ کے کچھ ممبران پارلیمنٹ نے پرفل پٹیل کے فیصلوں کے خلاف صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کو خط لکھا ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان احکامات کا مقصد لکش دیپ کی ثقافت کاخاتمہ ہے اور لکش دیپ کو ’ دوسرا کشمیر‘ بنانے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ اس خط میں لکش دیپ میں کورونا پھیلنے کے لیے بھی ایڈمنسٹریٹر کے فیصلوں کو ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے۔ بتادیں کہ گزشتہ سال لکش دیپ میں کورونا کاایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا تھا، لیکن 23 مئی کے اعداد وشمار کے مطابق 6 ہزار سے زیادہ معاملے گزشتہ 6 مہینے میں مل چکے ہیں۔
ممبران پارلیمنٹ نے اپنے خط میں لکھا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ مسلم اکثریتی یونین اسٹیٹ میں شراب سے پابندی ہٹا دی گئی اور بیف پر لگا دی گئی ۔ بتادیں کہ سال 2020 میں دنیشور شرما کی موت کے بعد پٹیل کو یہاں کا ایڈمنسٹریٹر تقرر کیا گیا ۔ اس عہدے پر پہلے آئی اے ایس افسران کو تقرر کیا جاتا تھا، لیکن اس بار کچھ ہٹ کر فیصلہ کیا گیا۔ دادرا نگر حویلی کے ممبر پارلیمنٹ موہن ڈولکر کی مبینہ خودکشی معاملے میں بھی ان کا نام جڑا ہوا ہے۔ اس معاملے میں پٹیل کا کہنا ہے کہ لکش دیپ میں آزادی کے بعد سے ترقی نہیں ہوئی ہے ۔ وہ یہاں ترقی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔








