نئی دہلی :
کورونا وائرس کے بحران کے دوران ملک بلیک فنگس کے چیلنج کا سامنا کررہا ہے۔ بلیک فنگس بیماری کے علاج کے لئے جن انجکشن کی ضرورت پڑ رہی ہے انہیں بیرون ملک سے بھی لایا جارہا ہے۔ اس معاملے پر جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔
عدالت نے مرکزی حکومت سے سوال کیا ہے کہ بلیک فنگس کی دواؤں پر امپورٹ ڈیوٹی اتنی زیادہ کیوںہے ؟ جبکہ یہی دوا جان بچانے کے کام میں آرہی ہے۔
ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ یہ ادویہ اس وقت لوگوں کی زندگیاں بچا رہی ہیں ، ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی دواؤں پر کسٹم ڈیوٹی یا امپورٹ ڈیوٹی کو ختم کرے، جب تک ملک میں ان دواؤں کی کمی ہے۔
ہائی کورٹ میں اس مسئلے پر مرکزی حکومت نے جواب دیا گیا کہ عدالت کے اس تبصرسے سی بی ڈی ٹی اور وزارت مالیات کوآگاہ کردیا جائے گا ، اگلے ایک دو دن میں اس پر فیصلہ ہوجائےگا ۔ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی شخص بلیک فنگس سے جڑی دواؤں کو مانگتا ہے ، تو اسے صرف بانڈ دینے کی ضرورت ہوگی۔ کسی طر ح کی ڈیوٹی نہیں۔
کورونا کی دوسری لہر کے درمیان اچانک بلیک فنگس کیسے
بتادیں کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے درمیان بلیک فنگس کے معاملے اچانک سے بڑھ گئے ۔ اب تک پورے ملک میں 10 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ بلیک فنگس کی بیماری میں استعمال ہونے والے امفوٹیرسن انجکشن کی فی الحال بھارت میں کمی ہے ، ایسے میں یہ باہر سے درآمد کیا جارہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امپورٹ ڈیوٹی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ابھی امریکہ نے بھی اس محاذ پر ہندوستان کی مدد کرنے کی بات کی ہے ، جبکہ پوری توجہ ہندوستان میں اس کی پیداوار پر بھی ہے۔








