اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

غزہ: فرض کیجئے یہ آپ کے پیارے کی لاش ہے

2 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
246
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر؛ وسعت اللہ خاں

فلسطینی مہاجرین کے لیے وقف اقوامِ متحدہ کے فلاحی ادارے انرا کے سربراہ فلپ لازارانی کے مطابق غزہ کے تمام سوا چھے لاکھ طلبہ کا تعلیمی سال ضایع ہو چکا ہے۔ یہ تعداد غزہ میں رہنے والے تیئس لاکھ فلسطینیوں کا ایک چوتھائی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا ان سوا چھے لاکھ طلبہ میں وہ ساڑھے سولہ ہزار اسکولی بچے بھی شامل ہیں جو پچھلے دس ماہ میں شہید کر دیے گئے اور وہ چالیس ہزار سے زائد طلبہ بھی شامل ہیں جو زخمی ہوئے یا اب تک لاپتا ہیں۔ غزہ میں اس برس پہلی بار میٹرک کے سالانہ امتحانات منعقد نہ ہو سکے۔ ان میں چالیس ہزار طلبہ کو بیٹھنا تھا۔ سات اکتوبر کے بعد سے اب تک دربدر بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں میں سے اکثر نے اسپتالوں، عبادت گاہوں اور اسکولوں میں پناہ لی۔ مگر ان کے لیے ان پناہ گاہوں میں بھی پناہ کہاں؟
چوتھے جنیوا کنونشن کے مطابق تعلیمی اداروں کو کسی بھی نوعیت کی جنگ میں براہِ راست نشانہ بنانا جنگی جرائم میں شامل ہے۔ مگر مقبوضہ فلسطین سے متعلق اقوامِ متحدہ کی خصوصی ایلچی فرانچسکا البنیز کا کہنا ہے کہ امریکی اور یورپی ہتھیاروں سے مسلح اسرائیل نے تاک تاک کر ایک ایک محلے، اسپتال، اسکول، پناہ گزین کیمپ اور سیف زون کو نشانہ بنایا۔ اگر یہ نسل کشی نہیں تو پھر نسل کشی کیا ہوتی ہے؟
یونیسیف کے مطابق چھے جولائی تک اسرائیل نے پانچ سو چونسٹھ اسکولوں کو براہ راست نشانہ بنایا۔ ان میں تین سو نو سرکاری اسکول، ایک سو ستاسی اقوامِ متحدہ کے تحت چلنے والے اسکول اور اڑسٹھ نجی اسکول شامل ہیں۔ جب کہ جولائی سے اگست کے وسط تک پندرہ مزید اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تازہ ترین حملہ گزشتہ ہفتے ال تلبینی اسکول پر کیا گیا۔ سو سے زائد عورتیں اور بچے شہید ہوئے۔ اکثر کی لاشیں اس بری طرح جل کے ریزہ ریزہ ہو گئیں کہ رضاکاروں نے لواحقین کو سرمہ ہونے والی ہڈیاں تھیلوں میں بھر کے دیں اور تلقین کی کہ فرض کر لیں کہ یہ ان کے پیارے کی لاش ہے۔ اس حملے میں جو بم استعمال ہوئے ان کے سبب تین پورے پورے خاندان راکھ کی صورت فضا میں تحلیل ہو گئے۔
غزہ کے پچانوے فی صد تعلیمی ادارے کلی یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ مگر آفرین ہے رضاکاروں پر کہ جہاں جہاں بے گھروں کا قافلہ عارضی پناہ کے لیے رکتا ہے وہاں وہاں اگلے پڑائو تک ایک عارضی اسکول کسی خیمے میں یا کھلے آسمان تلے قائم ہو جاتا ہے تاکہ کچھ نہ کچھ تعلیمی سلسلہ برقرار رہے۔ شدید خطرات کے درمیان تعلیمی تسلسل جس حد تک ممکن ہو قائم رکھنا بھی جہاد اور غاصب کے خلاف مزاحمت کی ایک شکل ہے۔ یہ مزاحمت انیس سو اڑتالیس سے جاری ہے جب ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بندوق کی نوک پر نکال کے ہمسائیہ ممالک کی جانب ہنکال دیا گیا اور انہوں نے کیمپوں میں سامان زمین پر اتارتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اپنے بچوں کو پڑھانا شروع کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تعلیم کی اہمیت اگلی نسل کے ڈی این اے کا حصہ بنتی چلی گئی۔ آج آسمان تلے چھت نہ ہونے کے باوجود فلسطینیوں کا شمار سب سے زیادہ خواندہ قوموں میں ہوتا ہے۔ ( لگ بھگ سو فی صد شرح ِ خواندگی)۔
ہر برس میٹرک کا امتحان ’’توجیح‘‘ کے نام سے منعقد ہوتا ہے اور جو کامیاب ہوتے ہیں انہیں اعلیٰ تعلیم کی بہتر درس گاہوں تک رسائی مل جاتی ہے۔ اس برس غزہ کے بچوں نے دس ماہ سے بجلی منقطع ہونے کے باوجود چاندنی اور موبائیل فون ٹارچ کی روشنی میں پڑھائی کی۔ ان کا تعلیمی سال تو ضایع ہو گیا البتہ محنت ضایع نہیں ہوئی۔ فلسطینی تعلیمی حکام کا کہنا کہ جب بھی جنگ کا خاتمہ ہوا ان بچوں کے لیے خصوصی امتحان منعقد ہو جائے گا۔
اسرائیل کو ’’جہاد بذریعہ تعلیم‘‘ کا پوری طرح ادراک ہے۔ اسی لیے سات اکتوبر کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پارلیمنٹ بلڈنگ، یونیورسٹی کیمپسز اور تمام قابل ِ ذکر ثقافتی اور تعلیمی اداروں کو بطورِ خاص نشانہ بنایا۔ تاکہ فلسطینی بچوں کو ان کی تاریخ اور شناخت سے محروم کیا جا سکے۔ ان کا حال بے حال اور مستقبل تاریک ہو سکے۔ کیونکہ تعلیم بھکاری بنانے سے روکتی ہے۔ تعلیم اپنے پائوں پر کھڑا ہو کر ایک بار پھر راکھ کے ڈھیر سے مستقبل دریافت کرنے کی جستجو عطا کرتی ہے۔ اور یہ کہ شعور کو مرنے نہیں دیتی اور غلامی اور آزادی میں حدِ فاصل جاننے کی تمیز دیتی ہے۔
آج غزہ میں مستقبل کے ننھے ننھے ڈاکٹر، انجینئر اور مدبر اپنا اور اپنے اہل ِ خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے دن میں کھٹی میٹھی اشیا بیچتے ہیں جو ان کی مائیں انہیں بنا کے دیتی ہیں تاکہ یہ بچے تب تک مصروف رہیں جب تک دوبارہ اسکول نہیں جاتے۔ اور انہیں تربیت مل سکے کہ محنت کی عادت سے تاریکی سے بھی روشنی کیسے کاڑھی جاتی ہے۔ اگست میں تعلیمی سال مکمل ہوتا ہے اور ستمبر سے نیا سال شروع ہوتا ہے۔ عام حالات میں اگست تعلیمی نصاب اور نئے بستوں کی خریداری کا مہینہ ہے۔ مگر اس اگست میں غزہ کے یہ بچے کورس کی کتابوں اور نئے بستوں کے بجائے خوراک اور پانی کی تلاش میں مارے مارے گھوم رہے ہیں۔

غزہ میں محض بچے ہی نہیں مرے بلکہ تیس سو سے زائد اسکول و کالج کے اساتذہ بھی شہید ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں غزہ کے سیکڑوں اساتذہ اور تعلیمی عملے نے تماشائی دنیا کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’’ہم ایک بار پھر یہ تعلیمی ادارے پہلے کی طرح کھڑے کر لیں گے۔ ہم اگلی نسل کو یہ مشعل منتقل کریں گے جو آج زمین پر عمارت کی شکل میں نہ سہی مگر ہمارے دل و دماغ میں ہمیشہ کی طرح روشن ہے۔ جو تعلیمی ادارے آج تباہ ہو رہے ہیں وہ بھی تو کئی عشروں پہلے حالت ِ بے گھری میں کسی خیمے یا کھنڈر میں ہی شروع ہوئے تھے۔ ایک بار پھر ہم ایسا ہی کریں گے۔ کوئی مخیر فلسطینی جس کے پاس کسی اور فلسطینی سے زائد اضافی وسائل ہیں اس نے کل بھی ہمیں مایوس نہیں کیا اور آنے والے کل میں بھی مایوس نہیں کرے گا۔ ہم آج کے خیموں اور ملبے سے ایک بار پھر نئی درس گاہیں اور ان درس گاہوں سے پہلے سے زیادہ قابل نسل پیدا کر دکھائیں گے‘‘۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN