نیویارک :
بھارت میں ملک کی شبیہ خراب کرنی کی سیاسی سازش جاری ہے۔ یہ بات وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکہ میں کہی ۔حقائق اور سیاسی وجوہات کی بنا پر تخلیق کی جانے والی تصاویر اور کہانیوں میں بڑا فرق ہے ۔ وزیر خارجہ ان دنوں امریکہ میں ہیں۔ یہ بات انہوں نےسابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میک ماسٹر کے ساتھ کھولے پلیٹ فارم پر ہوئے تبادلہ خیال کے دوران کہی۔
ہندوتوا کا ذکر جنرل میک ماسٹر نے کیاتھا۔ ان کا سوال تھا کہ کیا ہندوتوا کی وجہ سے ہندوستانی جمہوریت کا سیکولر امیج متاثر نہیں ہورہا ہے؟ اسی سے جوڑا دوسرا سوال تھاکہ کووڈ بحران کے دوران وہاں کی سیاست کیا موڑ لے رہی ہے؟ یہ بھی کہ کیا بھارت کے وزراء کا حال کے ان رجحانات کی وجہ سے فکرمند ہونا غلط ہے؟ جواب میں جے شنکر نے کہاکہ بھارت کی شبیہ کو ایک خاص طرح سے پیش کرنے کی سیاسی سازش ہو رہی ہے ۔ غلط تصاویرو کہانیاں تخلیق کی جارہی ہیں ، لیکن سچ اس سب کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ کووڈ بحران کے وقت بھارت انتہائی تناؤ بھرے دور سے گزر رہاہے ۔ ہم لوگوں کو مفت کھانا دے رہے ہیں۔ گزشتہ سال کئی ماہ دیا تھا اور کورونا کی دوسری لہر میں اس وقت دوبارہ دے رہے ہیں۔ یہ فری فوڈ بھی کروڑ دو کروڑ کو نہیں 80 کروڑ لوگوں کو ! یہی نہیں چالیس کروڑ لوگوں کے اکاؤنٹ میں رقم بھی ڈالے ہیں۔
یہ سب ہم خاموشی کررہے ہیں۔ گمنامی میں کررہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے سابق این ایس آر کو اس طرف توجہ دلایاکہ مدد پانے والوں کی تعداد امریکہ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ مدد کا یہ کام بغیر کسی امتیازی سلوک کے کیا جارہاہے ۔ ہم ہندوستانی اپنی جمہوریت کو لے کر پراعتماد ہیں۔ بھارت ایک کثرت میں وحدت والا ملک ہے ۔ جے شنکر نے کہاکہ بھارت میں پہلے ووٹ بینک کی پالیسی پر بڑا سہارا کیا جاتا تھا۔ موجودہ سرکار سیاست کے اس طریقے سے ہٹ گئی ہے ۔ یہ بڑی تبدیلی ہے ۔








