میرٹھ :
یوپی کے میرٹھ ضلع کے ملیانہ گاؤں میں پولیس اور پی اے سی کے ذریعہ 72 بے گناہوں کے قتل عام میں عدم کارروائی کا معاملہ اب قومی انسانی حقوق کمیشن تک پہنچ گیا ہے۔ سینئر صحافی قربان علی، سابق آئی پی ایس وبھوتی نارائن رائے، پی یو سی ایل، رہائی منچ جیسے انسانی حقوق کے امور پر کام کرنے والی متعدد دوسری تنظیموں نے کمیشن سے رجوع کیا ہے۔34 سال پہلے ہوئےاس قتل عام کا معاملہ ایک بار پھر گرم ہے کیونکہ الہ آؑباد ہائی کورٹ کی یک رکنی ڈویژ ن بنچ نے قربان علی اور وبھوتی نارائن رائے کی اس سے متعلق داخل مفاد عامہ کی عرضی کو قبول کرلی ہے ۔ قائم مقام چیف جسٹس جسٹس سنجے یادو اور جسٹس پرکاش پڑیا کہ بنچ نے 19 اپریل 2021 کو اپنے ایک تحریر ی حکم کے ذریعہ اترپردیش سرکار کو حکم دیا ہے کہ وہ اس مفاد عامہ پر جوابی حلف نامہ داخل کرے جس میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 34 سال پہلے فرقہ وارانہ فساد کے دروان 23 مئی 1987 کو اترپردیش کے میرٹھ ضلع کے ملیانہ گاؤں میں پولیس اور پی اے سی کے ذریعہ 72 بے گناہ لوگوں کو مار ڈالا گیا تھا اور جس مقدمے میں آج تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
اس وقت ڈویژن بنچ کے سامنے پیش ہوئے ریاستی سرکار کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل منیش گوئل نے دلیل دی کہ یہ معاملہ بہت پرانا ہے اور اب اس معاملے میں کوئی قانونی حیثیت نہیں رہ گئی ہے ، لیکن ڈویژن بنچ نے تحریری حکم دیتے ہوئے زور دیا کہ ریاستی سرکار کو جوابی حلف نامہ داخل کرنا چاہئے، اور دائر مفاد عامہ کی عرضی میں اٹھائے گئے تمام نکات کی تفصیلات سے ’پیرا وائز‘ جواب دینا چاہئے۔ عدالت نے اس معاملے میں سماعت کی تاریخ 24 مئی مقرر کی تھی اور تب تک ریاستی حکومت نے ریاستی حکومت سے حلف نامہ کے ذریعہ اس مقدمے سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزات عدالت کے سامنے رکھنے کو کہا تھا۔معروف انسانی حقوق کے کارکن اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کولن گونسالک عرضی گزاروں کی طرف سے عدالت میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ پیش ہوئے تھے، لیکن کورونا کی وجہ سے ہائی کورٹ وقت سے پہلے ہی بند ہوگیا۔ اب 10 جون کے بعد ہی اس کی اگلی سماعت کے متعلق تاریخ کا پتہ چل سکے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ’ ملیانہ قتل عام سانحہ ‘ کے ایک دن پہلے 22 مئی کو یوپی پولیس اور پی اے سی کے ذریعہ میرٹھ کے ہاشم پورا محلے سے پچاس سے زیادہ مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا تھا اور بعد میںانہیں مراد نگر کے قریب گنگا نہر اور یوپی – دہلی بارڈر کے پاس ہینڈن ندی میں گولی مار کر بہا دیا گیا تھا۔ اس قتل عام سانحہ کی سماعت پہلے غازی آباد کی سیشن عدالت میں ہوئی اور بعد میں سپریم کورٹ کے حکم سے اس مقدمے کو دہلی کی تیس ہزاری عدالت میں منتقل کردیا گیا ۔ دہلی کی تیس ہزاری عدالت نے اس قتل عام میں شامل تمام قصوروار پولیس اور پی اے سی اہلکاروں کو بری کردیا تھا لیکن بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے 19 ملزمین پولیس اور پی اے سی اہلکاروں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے انہیں 31 اکتوبر 2018 کو عمر قید کی سزاسنا دی۔ اس معاملے کی سماعت فی الحال سپریم کورٹ میں چل رہی ہے ۔
سینئر صحافی قربان علی نے ملیانہ اور ہاشم پورا کے قتل عام کو اس وقت کے معروف ہفت روزہ اخبار’ رویوار ‘ کے لیے کور کیا تھا ۔ قربان علی کاکہنا ہے کہ ہاشم پورا کا معاملہ اس لئے سرخیوں میں آسکا کہ اس وقت وبھوتی نارائن رائے غازی آباد کے پولیس سپرنٹنڈنٹ تھے اور انہوں نے خود اس سانحہ کی ایف آئی آر تھانہ لنک روڈ میں درج کرائی تھی جس کی وجہ سے مقدمہ چل سکا اور قصور واروں کو سزا ہو سکی لیکن ملیانہ معاملے میں تو میرٹھ کی ٹرائل کورٹ میں گزشتہ تین دہائی سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ،کیونکہ اس معاملے کی ایف آئی آر سمیت مقدمے کے اہم کاغدات اور دستاویزات پراسرار طور پر غائب کردئے گئے ہیں۔










