نئی دہلی: جنتر منتر دہلی کی محض ایک سڑک یا احتجاج کے لیے مختص جگہ نہیں، بلکہ کئی دہائیوں سے عوامی مطالبات، سیاسی اختلاف اور جمہوری احتجاج کی علامت رہا ہے۔ یہاں مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں نے اپنے مطالبات حکمرانوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے میں اس مقام کو احتجاج کے لیے مقررہ جگہوں کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ محض انتظامی تبدیلی نہیں رہتا؛ یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ جمہوریت میں اختلافی آوازوں کو جگہ دینے اور ان کا جواب دینے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے۔
دہلی پولیس نے 12 اکتوبر کو جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقام کی حیثیت سے ہٹانے اور رام لیلا میدان، بُراری گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ کو متبادل مقامات نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ پولیس نے اس اقدام کو انتظامی سفارشات اور سپریم کورٹ کی جانب سے مناسب متبادل مقامات کی نشاندہی کے تناظر میں پیش کیا۔ اس لیے اس فیصلے کو صرف حکومت کی جانب سے احتجاج روکنے کی کوشش قرار دینا مکمل تصویر نہیں ہوگا۔ لیکن یہ سوال ضرور اہم ہے کہ متبادل مقامات شہریوں کو احتجاج کا مؤثر موقع فراہم کرتے ہیں یا ان کی آواز کو سیاسی مرکز اور عوامی توجہ سے دور کر دیتے ہیں۔
احتجاج کی جگہ بدلنے سے احتجاج کی وجہ ختم نہیں ہوتی
جنتر منتر کی اہمیت اس کی جغرافیائی جگہ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ دارالحکومت کے مرکزی سیاسی علاقے کے قریب واقع ہے، جہاں احتجاجی مظاہروں کی موجودگی عوام، میڈیا اور سیاسی قیادت کی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس بُراری اور مشرقی دہلی کے سی بی ڈی گراؤنڈ جیسے مقامات تک پہنچنے کے لیے بعض مظاہرین کو زیادہ سفر کرنا پڑ سکتا ہے۔ دستیاب میڈیا رپورٹس کے مطابق، جنتر منتر سے رام لیلا میدان تقریباً تین کلومیٹر، سی بی ڈی گراؤنڈ تقریباً 12 کلومیٹر اور بُراری گراؤنڈ تقریباً 21 کلومیٹر دور ہے۔
فاصلہ بذاتِ خود احتجاج کے حق کو ختم نہیں کرتا، لیکن مقام کی تبدیلی سے احتجاج میں شرکت کی سہولت، اس کی عوامی نمائش اور میڈیا تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طلبہ، کم آمدنی والے شہریوں اور دوسرے شہروں سے آنے والے مظاہرین کے لیے سفر، اخراجات اور انتظامی پابندیاں عملی رکاوٹیں بن سکتی ہیں۔
جمہوری حکومت کے لیے اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ احتجاج کہاں ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ احتجاج کرنے والوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا قابلِ عمل راستہ میسر ہے یا نہیں۔ اگر متبادل مقام محفوظ، قابلِ رسائی اور بنیادی سہولتوں سے آراستہ ہے تو اس کا انتظامی جواز ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر مقام کی تبدیلی کے ساتھ اجازت کا حصول مشکل ہو جائے، اجتماعات پر غیر واضح پابندیاں لگیں یا احتجاجی آواز حکمرانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی محدود ہو جائے تو اس فیصلے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
سپریم کورٹ کی ہدایت اور حکومت کی ذمہ داری
اس تنازع میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ 9 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے دہلی حکام سے جنتر منتر کے متبادل کے طور پر مناسب احتجاجی مقام پر غور کرنے کو کہا تھا۔ عدالت نے ایسے مقام کی ضرورت پر زور دیا جہاں پُرامن مظاہرین کے لیے بنیادی سہولتیں موجود ہوں اور عوامی زندگی، ٹریفک اور ہنگامی خدمات میں غیر ضروری خلل نہ پڑے۔
12 اکتوبر کو دہلی پولیس نے جنتر منتر کی مقررہ احتجاجی مقام کی حیثیت ختم کرکے تین متبادل مقامات نامزد کیے۔ پولیس نے اسے عدالت کی ہدایت اور انتظامی عمل کے تناظر میں پیش کیا۔ تاہم عدالت کی جانب سے متبادل مقام پر غور کرنے کی ہدایت کو اس بات کی غیر مشروط اجازت نہیں سمجھا جا سکتا کہ احتجاج کے حق کو عملاً محدود کر دیا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے مقامات شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حقیقی اور مؤثر موقع دیتے ہیں؟
یہی وہ نکتہ ہے جس پر انتظامیہ کو شفافیت دکھانی چاہیے۔ متبادل مقامات کے انتخاب کی وجوہات، وہاں اجازت حاصل کرنے کا طریقہ، شرکا کی گنجائش، عوامی ٹرانسپورٹ، پانی، بیت الخلا، طبی امداد اور میڈیا کی رسائی کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ اس سے نہ صرف مظاہرین بلکہ عام شہریوں کے خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
CJP رہنماؤں کی عدالتی حراست نے تنازع کو مزید حساس بنا دیا
جنتر منتر کے معاملے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب ککروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنماؤں سَورَو داس اور آشوتوش رانکا کو 13 اکتوبر کو مبینہ طور پر بند دروازے اور رکاوٹیں عبور کرکے احتجاجی مقام میں داخل ہونے کے بعد حراست میں لیا گیا۔ 14 اکتوبر کو اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے دونوں کو پانچ روزہ عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا۔ پارٹی کے ایک اور رہنما اجنکیا شندے کو ذاتی مچلکے پر رہا کیا گیا۔
پولیس کا مؤقف ہے کہ رہنماؤں نے ممنوعہ مقام میں داخل ہو کر رکاوٹیں عبور کیں، ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کے کام میں مداخلت کی اور اس سے پہلے امن برقرار رکھنے کے لیے دی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی۔ دوسری جانب CJP کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے احتجاجی سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہاں قانونی اور سیاسی پہلوؤں کو الگ رکھنا ضروری ہے۔ عدالتی حراست کا حکم کسی شخص کے خلاف الزامات کو حتمی طور پر ثابت نہیں کرتا۔ اسی طرح احتجاج کے حق کا دفاع کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر مخصوص مقام پر ہر طریقے سے داخل ہونے کی اجازت خود بخود حاصل ہو جاتی ہے۔ عدالتوں اور متعلقہ حکام کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کارروائی قانونی بنیاد، شواہد اور ضرورت کے مطابق ہے یا نہیں، اور کیا اس کے مقابلے میں کم سخت متبادل موجود تھے۔
تاہم انتظامیہ کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ پُرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کے لیے قابلِ عمل قانونی راستہ کیا ہے۔ اگر احتجاجی مقام تبدیل ہو جائے، اجازت کے حصول کے ضابطے واضح نہ ہوں اور خلاف ورزی کے الزامات کے تحت فوری حراست کا خطرہ موجود ہو تو عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ووٹر لسٹوں کی نظرثانی: وہ سوال جس کا جواب ضروری ہے
CJP اور بعض اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کا ایک بنیادی مطالبہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے سے متعلق ہے۔ مظاہرین ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگاتے ہیں کہ نام حذف کیے جانے سے اہل ووٹروں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اپوزیشن اور ناقدین نے اس عمل کے سیاسی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا مقصد فہرستوں کو درست کرنا اور نااہل یا دہرے اندراجات کی نشاندہی کرنا ہے۔ صرف نام حذف ہونے کی تعداد سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر حذف شدہ اندراج کسی اہل ووٹر کا تھا یا یہ عمل سیاسی جانبداری کے تحت کیا گیا۔
اسی لیے اس تنازع کا مؤثر حل الزام تراشی سے آگے بڑھ کر شفاف جانچ میں ہے۔ کتنے نام حذف ہوئے، کن وجوہات کی بنیاد پر ہوئے، کتنے متاثرہ شہریوں نے اعتراض درج کرایا، کتنے معاملات میں نام بحال ہوئے اور کیا کسی علاقے یا گروہ پر غیر متناسب اثر پڑا—ان سوالات کے جواب قابلِ جانچ اعداد و شمار اور آزادانہ جائزے سے سامنے آنے چاہئیں۔ انتخابی عمل پر اعتماد قائم رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو اپنے طریقۂ کار اور شکایات کے ازالے کے نظام کی وضاحت کرنی چاہیے۔
حکومت کے لیے اصل راستہ: پابندی کے ساتھ جواب دہی بھی
کسی بھی بڑے شہر میں احتجاج کے دوران ٹریفک، سکیورٹی، ہنگامی خدمات اور دوسرے شہریوں کے حقوق کا خیال رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ پُرامن اجتماع کا حق بھی اہم ہے، لیکن یہ حق معقول قانونی پابندیوں کے تابع ہو سکتا ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ پابندیاں مخصوص، ضروری، متناسب اور شفاف ہوں، نہ کہ ایسی کہ احتجاج کا امکان ہی عملاً ختم ہو جائے۔
جنتر منتر کو مقررہ احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ اسی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے۔ اگر نئے مقامات بہتر سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور مظاہرین کو مؤثر طور پر اپنی بات رکھنے دیتے ہیں تو انتظامی تبدیلی کا جواز موجود ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں احتجاج کرنا زیادہ مشکل ہو جائے، اجازت غیر یقینی رہے یا ناقدین کو سیاسی مرکز سے دور کر دیا جائے تو حکومت کو اپنے فیصلے کا دفاع ٹھوس شواہد کے ساتھ کرنا ہوگا۔
حکومت کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ احتجاجی مقامات کے بارے میں واضح پالیسی جاری کرے، اجازت کے قواعد سب پر یکساں لاگو کرے، پولیس کارروائیوں کی شکایات کی غیر جانب دار جانچ کرائے اور SIR سے متعلق سوالات کے جواب اعداد و شمار کے ساتھ دے۔ اختلافی آواز کو سننا حکومت کی کمزوری نہیں؛ یہ جواب دہی اور اداروں پر اعتماد کا حصہ ہے۔










