اسرائیل نے غزہ میں کئی ماہ سے خوراک اور طبی امداد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، اور اب اسرائیلی اخبار ہارٹز نے ان ممنوعہ طبی اشیاء کی فہرست جاری کی ہے جنہیں غزہ پہنچنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اخبار کے مطابق، جون میں مرتب کی گئی اس فہرست میں آپریٹنگ ٹیبل، سرجیکل بلیڈ (اسکالپل)، الٹراساؤنڈ مشینوں کے پرزے اور دیگر بنیادی طبی آلات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسرائیل نے جنریٹرز اور موبائل ہیلتھ کلینکس کے لیے استعمال ہونے والے عارضی خیموں کی ترسیل پر بھی مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ طبی اشیاء حماس کی جانب سے ممکنہ طور پر ہتھیار سازی کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، اسی لیے ان کے داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ کے دوبارہ آغاز کے بعد اسرائیل نے تمام طبی اور امدادی سامان کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی، اور صرف چند مخصوص اشیاء کو سکیورٹی اداروں کی منظوری کے بعد داخل ہونے دیا گیا۔ امدادی اداروں کی جانب سے طبی سازوسامان کی اجازت کے لیے درخواست دی گئی، تاہم اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا۔اس فہرست میں صرف طبی آلات ہی نہیں بلکہ خیمے، ترپال، اسٹوریج یونٹس، سولر پینلز، فائر فائٹنگ آلات، بیٹریاں اور دیگر اہم اشیاء بھی شامل ہیں جنہیں غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔








