اسرائیلی فوج کی جانب سے شام کے دارالحکومت دمشق میں اہم دفاعی مقامات پرزوردار حملہ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے شام کے دارالحکومت دمشق پر حملہ کیا ہے، جس میں صدارتی محل اور وزارتِ دفاع کے قریب بم باری کی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں زور دار دھماکے سنے گئے ہیںاسرائیلی حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوج کی بڑی تعداد غزہ کی پٹی سے مقبوضہ گولان میں تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔مقبوضہ گولان کا یہ علاقہ اسرائیل نے 1967ء میں شام سے 6 روزہ جنگ میں ہتھیا لیا تھا۔ادھر ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل سے شامی افواج پر فضائی حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے – اس لڑائی میں شامی فوج کے 93 اہلکار جبکہ 18 بدو بھی جان سے جا چکے ہیں
ادھر شام پر حملے کے بعد ایران الرٹ ہوگیا ہے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جنگ کا مقصد ایران میں نظام کا تختہ الٹنا تھا، ایران کسی بھی نئے فوجی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
اپنے بیان میں آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران دشمنوں کو اسرائیل والی جنگ سے بھی بڑا دھچکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، امریکا اسرائیل کے جرائم میں شریک ہے ـدوسری جانب امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران سے نیوکلیئر ڈیل کے لیے اگست کے اختتام تک کی ڈیڈ لائن مقرر کرنے پر اتفاق کر لیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے برطانیہ، فرانس اور جرمن ہم منصب کو ٹیلی فون کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر حتمی سمجھوتے کے لیے اگست کے اختتام تک کی مہلت رکھی جائےـ خبر رساں اداروں کے مطابق ڈیل نہ ہونے کی صورت میں یہ ممالک ایران پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ تمام پابندیاں پھر سے عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو 2015ء میں ایران نیوکلیئر ڈیل کے موقع پر اٹھا لی گئی








